
لاہور (ٹی این آئی) باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے حکومت پاکستان نے فی اراکین اسمبلی کو تقریبا 6ماہ قبل ترقیاتی منصوبوں کے لئے10 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے۔
جو ضلع سیالکوٹ سے خواجہ محمد آصف سابق وفاقی وزیر دفاع، زاہد حامد ایم این اے ،رانا شمیم احمد ایم این اے ،نوشین ظاہرے شاہ ایم این اے ،چوہدری ارمغان سبحانی ایم این اے نارووال سے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال ایم این اے،گجرات سے چوہدری سالک حسین سابق وفاقی وزیر، قمر زمان کائرہ، عابد رضا ایم این اےوغیرہ کے حلقوں کی ترقیاتی سکیموں کے لئے فی اراکین اسمبلی 50 کروڑمحکمہ PAK PWD کے ایگزیکٹو انجینئر جاوید اختر کی نگرانی میں جاری ہوے۔
تو متعلقہ ایس ڈی او سجاد شاہ اور سب انجینئر اسد نے مبینہ طور طمع نفسانی کی خاطر ٹھیکیداروں سے مبینہ ملی بھگت کرتے ہوے ناقص میٹیریل کا استعمال کرواتے ہوے کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کیں اور محکمہ پبلک ہیلتھ، ضلع کونسل ،محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے پہلے سے ہی کئے گئے منصوبوں کی بھی اپنےریکارڈ میں درج کرکے بوگس ادائیگیاں کروائیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کا بھانڈا ہونے والی بارشوں پھوڑ دیا ہے جو ناقص میٹیریل کے استعمال ہونے کی وجہ سے توڑ پھوڑ کا شکار ہوگئیں ہیں ہمارے ذرائع کے مطابق ذمہ دار افسران نے قومی خزانہ کے اربوں روپے کی خوب دھجیاں اڑاتے ہوئے آمدن سے زائدناجائز اثاثوں کے مالک بن چکے ہیں حیران کن بات ہے کہ قومی خزانہ کے کروڑوں روپے مبینہ طور لوٹنے والے افسران ہمارے تحقیقاتی اداروں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں،مذکورہ آفسران اپنے آپ کو سابق اراکین اسمبلی کی آنکھوں کے تارہ ہونے کادعوی بھی کرتے ہیں، جب اس حوالے سے مذکورہ افسران سے موقف دریافت کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا تو آگے سے سنگین نتائج کے ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں کے علاوہ اپنے آپ کو اعلی افسران کے کار خاص ہونے کا دعوٰی بھی کیا جبکہ عوامی سماجی حلقوں کے لوگوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر ہاؤسنگ کے علاوہ سیکرٹری PAK.PWD اور وفاقی وزیر داخلہ سے بھی فوری انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوے ان کی انکوائری کے ساتھ ساتھ ان کے آمدن سے زائد نا جائز اثاثوں کی نیلامی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔جبکہ چیف انجینئر چوہدری رشید کے مطابق ان ترقیاتی منصوبوں میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے کے لئے محکمانہ انکوائری کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم اراکین قومی اسمبلی کا کہنا کہ ہمارا کام جد جہد کرکے حکومت پاکستان سے فنڈز دستیاب کروانا ہے ناکہ انکوائری کرنا اس بابت حکومتی ادارے موجود ہیں جن کو باقاعدہ تحقیقات کے لئے منتخب کیا گیا ہے ان کو تحقیقات کرکے ذمہ داران افسران کے خلاف بھر پور ایکشن لینا چاہیے۔