اہم خبریںپاکستانجرم وسزا

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو:چیف انجینئر سمیت 4 ایس ای ،اور 19 ایگزیکٹیو انجنیئر کی کرپشن بے نقاب کر نے کے لئے محتسب اعلی پنجاب نے کمر کس لی۔

By Editor arshad Mahmood Ghumman

لاہور (ٹی این آئی )محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پنجاب:چیف انجینئر ہائی وے نارتھ وسیم طارق کی ناک تلے 4 ایس ای،اور 19 ایگزیکٹیو انجنیئر  تبدیلی سرکار کے ویژن پر سوالیہ نشان بن گئے.

 

ان افسران میں 4 ایس ای رائے نواز جس کے پاس گوجرانوالہ ڈویژن 1 اور ٹو سر کل کا چارج تھا جن کے ماتحت 12 ایگزیکٹیو انجنیئر ہیں،ایس ای راولپنڈی1 نوید احمد بھٹی جن کے ماتحت 4ایگزیکٹیو انجنیئر، ایس ای 2 راولپنڈی طاہر محمود انجم 3 ایگزیکٹیو انجنیئر ہیں کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے گئے.

 

جو کہ تمام افسران نے ماتحت عملہ اور ٹھیکداروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ کے اربوں روپے کی بند بانٹ کر لی،ایوان وزیر اعلی سے کرپٹ افسران کی تعیناتیوں کے سرکلر جاری کئے جانے کے انکشافات ہوے ہیں جبکہ ان افسران کی کرپشن کے خلاف سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کیپٹن اسد بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں، تفصلات کے مطابق اسوقت وزیراعظم عمران خان نے سابقہ حکومتوں پر قومی خزانہ کے اربوں روپے لوٹنے والے حکمرانوں کا کڑا احتساب کرنے کے مشن کا درس دیتے دکھائی دینے لگے ہیں.

 

مگر ان کی حکومت میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پنجاب  میں ایسے درجنوں کرپٹ افسران کے اوجھل ہونے اور پنجاب حکومت کے ایوان بالا سے تحفظ فراہم کرنے والے افسران میں سر فہرست چیف انجینئر وسیم طارق، ایس ای رائے نواز گوجرانوالہ ڈویژن ایگزیکٹیو انجنیئر سیالکوٹ دلشاد احمد سر فہرست ہیں جنکی مبینہ کرپشن کے چرچے حکومتی ایوانوں تک دکھائی دینے کے باوجود تمام تحقیقاتی ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں.

 

مذکورہ افسران نے تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں من پسند عہدوں پر فائز ہیں۔ذرائع نے بتایا کے مذکورہ افسران کے خلاف جب تحقیقات کے لئےتحقیقاتی ادارے ان کی کرپشن کی داستان لکھنے کے لئےمتحرک ہوتے ہیں تو ایوان وزیراعلی سے کی جانے والی کالز تحقیقاتی اداروں کے ہاتھ پاوں باندھ دیتی ہے۔تحقیقاتی اداروں کے ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بردار کو اپنی صفوں میں بیٹھے کرپٹ مافیا جیسے افسران پر بھی نظر رکھنی چاہیے.

 

جن کی وجہ سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جانے والےفنڈز محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کرپٹ افسران کی نظر کر دیئے جاتے ہیں ۔اس حوالے سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ہائی وے نارتھ سیالکوٹ دلشاد ایگزیکٹیو انجنیئر کادعوی  ہے کہ وہ اپنے اثراسوخ سے ایک کال پر  محکمہ کے سیکرٹری کیپٹن اسد کے تبادلہ کا پروانہ تھما نے کی سکت رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کرپٹ افسران کی کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات کے لئے ایک شہری کی درخواست پر  سابق چیف سیکرٹری محتسب اعلی پنجاب میجر ر اعظم سلیمان نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کرکے اس میں ذمہ دران افسران کے تعین کرنے کے بعد سخت کارروائی کرنے فیصلہ کیا ہے۔

 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایگزیکٹیو انجنیئر سیالکوٹ دلشاد احمد حکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں باعزت گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خاتون کو ورغلا کر شادیاں کرنے اور ان کو بعد میں مبینہ طور پراپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button