
لاہور (ٹی این آئی) ۔ سپیکر پنجاب اسمبلی محمد احمد خان کی زیرِ صدارت پنجاب اسمبلی کے پرانے سیشن ہال میں ترمیم شدہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ترمیم شدہ قواعد و ضوابط کا مقصد اسمبلی کی کارکردگی کو مزید شفاف، جامع، اور جوابدہ بنانا ہے، جس سے قانون سازی اور نگرانی کی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اس موقع پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قواعد کی تبدیلی سے اسمبلی کو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں جمہوری ادارے انتہا پسندی، معاشی مسائل جیسے مہنگائی اور بے روزگاری کے دباؤ میں ہیں۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ پارلیمان وہ جگہ ہے جہاں ہم حکمرانی کا نیا تصور پیش کر سکتے ہیں۔ ریاست و عوام کے درمیان سماجی معاہدے کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ ملک محمد احمد خان نے اس موقع پر مزید کہا کہ تمام اسمبلیاں معمول کی قانون سازی سے آگے بڑھ کر عوامی اعتماد کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہاکہ ماضی میں متعدد مرتبہ قوانین میں تبدیلی کی گئی اور اس تبدیلی کا مقصد پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے۔
اٹھارہویں ترامیم کے بعد صوبوں کو اختیارات تو ضرور دئیے گئے ہیں لیکن اسے تقسیم نہیں کیاگیا، کسی ادارے یا محکمہ کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے لیکن پارلیمنٹ کو نگرانی کا حق حاصل ہے ماضی میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے ایسی دخل اندازی کی جسے واگزار کروانا اب مشکل ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہاکہ سیاسی استحکام کے بغیر نہ ہم دہشت گردی کا مقابلہ کر سکیں گے اور نہ ہی ملک آگے چلے گا۔ ترامیم کے بعد، پنجاب اسمبلی کو قومی اسمبلی، سینیٹ، اور بین الاقوامی بہترین روایات کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ترامیم کے تحت اب کمیٹیوں کی سماعت عوام اور میڈیا کے سامنے ہوگی، جس سے شفافیت کو فروغ ملے گا۔ مزید برآں، اسمبلی کی کارروائیوں کی لائیو سٹریم اور آن لائن ریکارڈنگ بھی دستیاب ہوں گی، تاکہ عوام کو بہتر رسائی فراہم کی جا سکے۔پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار اراکین کو پنجابی، سرائیکی، میواتی، پوٹھوہاری سمیت دیگر علاقائی زبانوں میں اسمبلی سے خطاب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پنجاب کی ثقافتی اور لسانی تنوع کو اجاگر کرنا ہے۔ اردو اور انگریزی زبانوں میں بھی تقاریر کی جا سکیں گی۔ترمیم کے مطابق، ہر قائمہ کمیٹی میں کم از کم دو خواتین اراکین کی شمولیت لازمی ہوگی تاکہ صنفی نمائندگی کو مضبوط کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں اراکین کی تعداد 11 سے بڑھا کر 15 کر دی گئی ہے۔ترمیم میں مختلف کاکسز کے قیام کی حمایت شامل کی گئی ہے، جن میں خواتین پارلیمانی کاکس، مقامی حکومتوں کا کاکس، اور اقلیتی کاکس شامل ہیں۔ یہ کاکسز اسمبلی کے مختلف امور میں معاون ثابت ہوں گے۔اسمبلی کی کمیٹیاں سپیکر کی پیشگی منظوری کے بغیر اپنے مخصوص شعبوں سے متعلق معاملات کی تحقیقات اور مسائل حل کرنے کی مجاز ہوں گی۔ اس کے علاوہ، اسمبلی اب سیشنز کا سالانہ کیلنڈر شائع کرنے کی پابند ہوگی، جس سے بہتر منصوبہ بندی اور عوام اور اراکین کے لیے پیش گوئی ممکن ہوگی۔
بزنس ایڈوائزری کمیٹی اب اختیارات کے تحت اراکین کی معطلی سمیت نظم و ضبط کے امور بھی دیکھے گی۔ قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے تاریخی اقدام کے تحت پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار سپیشل پاسپورٹ ڈیسک قائم کیں۔ جس کا افتتاح سپیکر ملک محمد احمد خان نے خود کیا۔ جس سے اب ارکان پنجاب اسمبلی اپنے پاسپورٹ پرانی بلڈنگ میں قائم سپیشل پاسپورٹ ڈیسک پر بنوا سکیں گے۔افتتاحی تقریب میں سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی چوہدری عامر حبیب، ڈائریکٹر پاسپورٹ خالد عباس، سٹاف آفیسر عماد حسین بھلی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
