متنازعہ انتخابات پر بیلاروس کے صدر کے خلاف احتجاجی مظاہرے 50 ویں روز میں داخل
منسک (ٹی این آئی)بیلاروس کے دارالحکومت منسک سمیت دیگر نو شہروں میں متنازعہ انتخابات کرانے پر جارحیت پسند صدر الیگزبنڈر لوکاشینگو کو اقتدار سے ہٹانے کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ کا لگاتار 50 ویں روز بھی جاری رہے۔ بیلا روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق احتجاج کا سلسلہ 9 اگست ا س وقت شروع ہوا جب حکام کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ لوکاشینکو کو 60 فیصد ووٹ ملنے پر مسلسل چھٹی مدت کے لیے صدر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے۔
صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے اپنے 26 سالہ دور اقتدار کے دوران حزب اختلاف اور آزاد میڈیا کو دبائے رکھا اور اپنے اقتدار سے دستبردار ہونے کے مطالبے کی تردید کرتے ہوئے اقتدار کی منتقلی کا بندوبست کرنے کے مقصد سے تشکیل دی گئی ایک کونسل کے ممبران کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ملک سے 200 کے قریب مظاہرین کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس کے دستوں، بکتر بند گاڑیوں اور واٹر توپوں سے شہروں کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ روزانہ کی بنیاد پر مظاہرین کی نظر بندی کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے