
پرچہ لیک ہونے کے تمام الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں: عظمیٰ یوسف
آفیشل بیانات پر اعتماد کریں اور غلط معلومات یا افواہوں کے پھیلاؤ سے گریز کریں کیونکہ اس سے طلبہ کو نقصان پہنچتا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی پریس اینڈ اسیسمنٹ کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ پرچہ لیک ہونے کے تمام الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ اگر کسی معاملے میں واقعی بےضابطگی ثابت ہوجائے تو کیمبرج مناسب وقت پر اسکولوں کو آگاہ کرتا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ، والدین اور متعلقہ افراد صرف کیمبرج کے آفیشل بیانات پر اعتماد کریں اور غلط معلومات یا افواہوں کے پھیلاؤ سے گریز کریں کیونکہ اس سے طلبہ کو نقصان پہنچتا ہے۔
عظمیٰ یوسف نے کہا کہ امتحانات کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوششیں کی جارہی ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مختلف قانونی راستے اختیار کیے جارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کیمبرج نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو رپورٹ درج کروادی ہے جبکہ پرچوں کے لیک ہونے سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے کے معاملے پر مزید شکایت بھی درج کروائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بھی ریاضی کے پرچے کے لیک ہونے اور ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر مبینہ لیک شدہ پرچے شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف نیشنل فراڈ انٹیلی جنس بیورو (این ایف آئی بی) کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کیمبرج ایک اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف بھی قانونی کارروائی کر رہا ہے تاکہ غیرقانونی طور پر شیئر کیے گئے مواد سے متعلق معلومات حاصل کی جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ کیمبرج کی اولین ترجیح یہ ہے کہ چند افراد کی دانستہ بدعنوانی کی وجہ سے طلبہ متاثر نہ ہوں۔ اسی مقصد کے تحت بعض صورتوں میں لیک شدہ پرچوں کو منسوخ کرکے متبادل امتحان لینے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔عظمیٰ یوسف کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد ان طلبہ یا افراد کی حوصلہ شکنی کرنا بھی ہے جو لیک شدہ پرچوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہوتے ہیں کیونکہ اس غیرقانونی عمل پر خرچ کی گئی رقم ضائع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نقل، جعلسازی یا جعلی پرچے فروخت کرنے والوں سے رابطے میں رہنے والے طلبہ کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جن میں نتائج روکنا، امتحانات سے نااہلی یا پانچ برس تک امتحانات میں شرکت پر پابندی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پرچے لیک کرنا چوری کے مترادف ہے اور کیمبرج خفیہ امتحانی مواد تیار کرنے، فروخت کرنے یا شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے، جس میں مستقل نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریفرنس بھی شامل ہوسکتا ہے
