
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر اپنا گھر سکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس
اپنا گھر سکیم میں شہریوں کی بڑی تعداد کا حصہ لینا انتہائی خوش آئند ہے، وزیراعظم
اگر اسی رفتار سے آگے بڑھیں گے اپنے گھر کے زیادہ سے زیادہ خواہشمند افراد کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا، وزیراعظم
اس سکیم کی کامیابی سے تعمیرات کے شعبے میں تیزی آئے گی، اس شعبے سے منسلک صنعتوں کو فروغ ملے گا اور معاشی ترقی کی رفتار بڑھے گی، وزیراعظم
وزیراعظم کی شہریوں کے لیے اپنا گھر سکیم میں شمولیت اختیار کرنے کے عمل میں مزید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی وزارت ہاؤسنگ کو سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر اپنا گھر سکیم کے درخواست فارم کو آسان فہم بنانے کی ہدایت
وزیراعظم کی بینکوں کو اپنا گھر سکیم کی درست درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی اپنا گھر سکیم کے حوالے سے پورے ملک میں آگاہی مہم مزید تیز کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی زمینوں کے کاغذات کے حصول میں تیزی لانے کے لیے صوبوں کو ضلعی سطح پر اپنا گھر سکیم کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت
اجلاس میں وزیراعظم کو اپنا گھر سکیم کی اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا
پرائم منسٹر اپنا گھر سکیم کی مد میں اب تک مجموعی طور پر 11 ارب روپے کے قرضے دیے جا چکے ہیں، بریفنگ
اس سال مارچ میں وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے قوائد و ضوابط کو مزید آسان بنانے کے بعد گھر کے خواہشمند افراد کی درخواستوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، بریفنگ
ملک بھر سے 67900 افراد نے درخواستیں جمعہ کرائی ہیں، جس میں سے 16587 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں جب کہ 3146 افراد کو قرضوں کی ادائیگی ہو چکی ہے، بریفنگ
آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے عمل کو ڈیجیٹل ہب، سہولت ڈیسکس کے قیام اور دیگر اقدامات کے ذریعے مزید تیز بنایا جا رہا ہے، بریفنگ
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو اپنا گھر سکیم کے درخواست فارمز کو 15 دن کے اندر پراسیس کرنے کا پابند بنایا ہے، بریفنگ
پارلیمنٹ نے حال ہی میں کونڈومینیئم اور فائنانشل انسٹیٹیوشن ریکووری کے قوانین پاس کیے جس سے ہاؤسنگ کے شعبے میں قانونی رکاوٹیں دور ہوں گی اور اس شعبے کو فروغ ملے گا، بریفنگ
اپنا گھر سکیم کی پیشرفت کی نگرانی کے لیے خصوصی دیجیٹل پورٹل لانچ کیا جا چکا ہے، بریفنگ
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، میاں ریاض حسین پیر زادہ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک، پاکستانی بینکوں کے صدور / سی ای اوز ، صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
