
لاہور(ٹی این آئی)واپڈا گیپکو گوجرانوالہ ڈویژن ٹرانسفارمرز ریپیرنگ کی مد میں مبینہ اربوں روپےکی بے ضابطگیوں کا انکشاف،ذرائع ملازمین واپڈا کے مطابق ٹرانسفارمرز کمپنی سے نئے منگوائے گئے ٹرانسفارمرز سے ایک سال بعدمبینہ طور پرخرابی کا بہانہ بنا40 فی صد تانبا نکال کر سلور بھر دیا جاتا ہے،جس کے باعث آئے روز ٹرانسفارمرز کی کمپیسٹی کم ہونے سے جل جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیالکوٹ،گوجرانوالہ،نارووال ورکشاپ میں موجود اہلکار مبینہ طور لائن سپرنٹنڈنٹ اور لائن مینوں سمیت بڑے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے تانبا نکال کر فی ٹرانسفارمرز میں 40 فی صد سلور بھرکرتانباپرائیویٹ فیکٹری مالکان کے ٹرانسفارمرز میں بھر کر فی ٹرانسفارمر3لاکھ سے 10 لاکھ کمائے جاتے ہیں، علاوہ ازیں بجلی کی تاروں کی پرائیویٹ فیکٹری میں بھی فروخت کرنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
اگر تحقیقاتی ادارے اس کی انویسٹی گیشن کریں اور چلنے والے ٹرانسفارمرز کی لیبارٹری کی جائے تو اس کی سامنے آنے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں، مارکیٹ ذرائع کےمطابق اس وقت تانبا کی قیمت5000 فی کلوبتائی جاتی ہے۔تاہم اس حوالے سے اعلی افسران اپنا موقف دینے سے گریزاں ہیں جبکہ مبینہ طورپر کئی ملازمین اسے درست قرار دیا ہے تاہم ایس ای واپڈا سیالکوٹ کا کہنا ہے کہ ایسی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
