اہم خبریںپاکستان

کے پی میں بیٹھے لوگوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ کریں: محسن نقوی

دہشتگردی کو ختم کرنا وفاق کی ذمہ داری، اسے ضرور پورا کریں گے: وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کی کہ کے پی حکومت کو دہشتگردی کیخلاف آن بورڈ کریں، فروری میں صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس کی صدارت کی ، اس اجلاس کو کروانے میں جتنی ہماری لکیریں نکلوائی گئیں وہ ہمیں پتا ہے، اجلاس میں صرف یہ طے کرنا تھا کہ دہشتگردی کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کئی بار ملا،مل بیٹھ کر 5 اضلاع کا پلان بنایا، پلان بنایا کہ ان 5 اضلاع میں پولیس کی نفری بڑھائیں گے، وزیراعلیٰ کو کون ہدایات دیتا تھا یہ ایک الگ بات ہے،  ہم کہتے تھے کہ دہشتگردی کیخلاف لڑائی آپ کی ہے آپ لے لو، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم لیڈ لینا چاہتے ہیں، اسی دن ہمارے کچھ جوان شہید ہوئے، وہ آخری بار تھا جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کسی شہید کا جنازہ پڑھا۔

ان کا کہناتھا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا ہمارا دل نہیں تھا، مذاکرات میں سب سے پہلےبات ہی دہشتگردی کے خاتمے سے متعلق ہوئی، پہلے سی ایم لیول پر بات چیت جاری تھی، کوشش کی کہ اپوزیشن کی وزیراعظم سے ملاقات ہوجائے، ایک دن پہلے پوائنٹ نمبر 4 پر انتظار کرتے رہے، کے پی میں بیٹھے لوگوں نے ہمیں مجبور کیا کہ یہ فیصلہ کریں، کہا گیا کہ ہم مذاکرات سے اٹھ کر گئے، آپ سب گواہ ہیں کہ ہم مذاکرات سے اٹھ کر نہیں گئے، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ یہ ٹائم لائن ہے اس میں فیصلہ کریں، مذاکرات ہر بار ہم نے آکر کیے۔

محسن نقوی کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی کے کہنے پر لانگ مارچ ختم کرنے کی لائن شامل کی گئی، آخری منٹ تک ہماری کوشش تھی کہ مذاکرات ناکام نہ ہوں، آخری گھنٹے تک ہماری کوشش تھی کہ گورنر راج کا نفاذ نہ ہو، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کسی ایک جگہ بھی اداروں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے، دہشتگردی کو ختم کرنا وفاق کی ذمہ داری، اسے ضرور پورا کریں گے، اپوزیشن ارکان سے درخواست ہے کہ اپنی صوبائی قیادت کے ساتھ بیٹھیں، کسی بھی سیاسی جماعت کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی بھی ایشو آیا ہم نے ہمیشہ پہل کی، جب پتا چلتا تھا کہ بانی کی طبیعت تھوڑی سی بھی خراب ہے تو کیا اسی رات ہسپتال میں چیک اپ نہیں ہوتا تھا، جو جو چیز بانی کی آنکھ کے مسئلے پر بتائی گئی اس پر یقین کیا، انہوں نے جس جس کو ہسپتال لانے کا کہا ہم لے کرآئے، ابھی چند ہفتے پہلے بھی ملاقاتیں ہورہی تھیں، اپوزیشن نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے پوچھتے ہیں، مجھے نہیں پتا کہ ان کے بڑوں کو چھوٹی قیادت پر اعتماد کیوں نہیں ہے، اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ جو فیصلہ کریں اسی جگہ کریں۔

محسن نقوی نے کہا کہ ان کا پہلا پوائنٹ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرکی ملاقات کا تھا، دوسرا پوائنٹ ایک سیاسی کمیٹی کی تشکیل کا تھا، تیسرا جس جس کا قانونی حق تھا اسے ری انشور کرانا تھا، معمر اور بیمار افراد کے علاج کی درخواستیں بھی تھیں، چوتھا پوائنٹ تھا دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا، ایمرجنسی اور گورنرراج کے نفاذ کی ہمیں کوئی خوشی نہیں ہےم کتنی دیر ہم جنازے اٹھائیں گے، ہم کراچی لاہور سے پشاور جنازہ پڑھنے پہنچ جاتے تھے، مقامی سطح پران میں سے کوئی شریک  نہیں ہوتا تھا، کوشش کرتا ہوں کہ سیاسی بات کم کروں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button