اہم خبریںپاکستان

مہینوں نہیں ہفتوں کے اندر دہشتگردوں کا صفایا کیا جائے گا: رانا ثناء اللہ

ہم نے مولانا کے ساتھ کوئی بات طے نہیں کی، صرف اتنی بات ہوئی کہ مولانا کی وزیراعظم سے ملاقات ہونی چاہیے: مشیر وزیراعظم

مشیر وزیراعظم راناثنا اللہ نے نجی نیوز چینل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عسکری قیادت نے موجودہ صورتحال سے متعلق اپیکس کمیٹی کو اعتماد میں  لیا، عسکری قیادت نے دہشتگردوں کا صفایا کرنے کا عزم کیا، مہینوں نہیں،ہفتوں کے اندر دہشتگردوں کا صفایا کیا جائے گا، ہمارے پرفیکٹ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن   ہو رہے ہیں۔

راناثنااللہ کا کہناتھا کہ 12متاثرہ اضلاع میں 201تشکیلیں موجود ہیں، 12اضلاع کی آبادی میں یہ تشکیلیں موجود ہیں، جن آبادیوں میں دہشتگردہیں، وہاں آبادی سے انہیں نکالنے میں مدد کاکہا، آپشن دیا گیا کہ پھر آپریشن کر کے دہشتگردوں کا صفایا کر دیا جائے، آبادیوں کو کہا گیا کہ دونوں آپشن نہیں تو پھر ہمیں موقع دیں، دہشتگردوں کو وہاں پلنے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سمجھا رہے ہیں،وہ تعاون پر آمادہ بھی ہوتے ہیں، سہیل آفریدی کی حکومت لوگوں کو آپریشن کیخلاف اکساتی تھی، فیلڈمارشل نے بڑی خوبصورت بات کی، فیلڈمارشل نے بتایا ان کی ٹوٹل تعداد یہ ہے، فیلڈمارشل نےکہایہ وہاں بھتہ لے سکتے ہیں،لوگ یرغمال بنا سکتے ہیں، یہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں،منشیات کا کاروبار تو کر سکتے ہیں  ،  اتنے لوگ مسلح افواج ، سیکیورٹی ایجنسیوں کو شکست نہیں دے سکتے، دہشتگردی کے ساتھ پوری قوم نے لڑنا ہے۔

 

ان کا کہناتھا کہ 3آپشن وہاں کے لوگوں کے پاس ہیں،  انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن  کی منظوری ہے،  ہروہ جگہ جو دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے اسے ختم کیا جائے گا، پاکستان یا افغانستان میں دہشتگردوں  کے ٹھکانوں کوختم کیاجائےگا، ہرعلاقےمیں لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کا آپشن دیا جائے گا، 226میں سے 201 تشکیل یہاں ہیں، باقی پورے کے پی میں 25 ہیں، انٹیلی جنس کانظام مضبوط ہے۔ جہاں تشکیل موجود ہیں، سیکیورٹی ایجنسیزآمادہ کررہی ہیں کہ انہیں آپ نکال دیں، یا ہمیں نکالنے دیں۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ علی ظفر نے ہمیشہ مناسب قانونی اور آئینی دائرےمیں بات کی ہے، پیچھےکسی کی بھی اجازت ہو وہ علیحدہ چیز ہے، فیصلہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر وزیراعظم کو ملنے کو تیار نہیں، 3بار میں نے اپوزیشن لیڈر سے جا کر درخواست کی، اپوزیشن لیڈر نے مجھے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس نہیں جانا، اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں اسپیکر کو میں دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔

رانا ثنااللہ کا کہناتھا کہ علی ظفر معاملے میں اپنا کردار ادا کریں، اسحاق ڈار نے مولانافضل الرحمان سے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی بات کی، مولانافضل الرحمان نے کہا نہیں میں اس پربات نہیں کر سکتا، مولانا کے گھرمیں ان سے کوئی ایسی بات نہیں ہوئی، ہم نے مولانا کے ساتھ کوئی بات طے نہیں کی، صرف اتنی بات ہوئی کہ مولانا کی وزیراعظم سے ملاقات ہونی چاہیے، وزیراعظم نے مولانا سے دوٹوک کہا پہلے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون، لانگ مارچ کال آف کرنے کی بات کریں، وزیراعظم نے کہا اس کے بعد پھر باقی چیزوں پر ہم ان کےساتھ بیٹھ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button