وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا دورہ اوکاڑہ آئندہ چند روز کے لیے ملتوی
کرمانوالہ (ٹی این آئی) وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا دورہ اوکاڑہ آئندہ چند روز کے لیے ملتوی ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دورہ اوکاڑہ کے سلسلہ میں گزشتہ دو ہفتوں سے تیاریوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے دورہ کے دوران وزیر اعلیٰ نے صوبائی وزیر سید صمصام علی شاہ بخاری آف حضرت کرماں والا شریف ،اوکاڑہ ، بہادر نگر فارم اور خصوصاًفخر بلوچ سردار میرچا کر اعظم رند کے مقبرہ واقع ( ستگھرہ) میں حاضری کے علاوہ دیگر پروگرام بھی شامل تھے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی اوکاڑہ آمد سے قبل میڈیا نے مقبرہ میر چاکر اعظم رندستگھرہ کا دورہ کیا ۔اوکاڑہ سے ستگھرہ مقبرہ تک جانے والی 12 کلو میٹر لمبی سڑک انتہائی خراب ،سڑک میں جگہ جگہ کھڈے پڑے ہوئے ہیں جبکہ سڑک کے بعض حصوں پر پتھر ڈالنے کے بعدتارکول نہیں ڈالی گئی جس کی وجہ سے ڈالے گئے پتھر کھڈوں میں تبدیل ہوگئے۔ وہاں پر پتھر کا باریک خاکہ ڈالنے کی بجائے ٹرالیوں کے ذریعے مٹی ڈال کر سڑک کی مرمت کی جار ہی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ 15 سالوں سے سڑک کا یہی حال ہے ۔
مقبرہ میر چاکر اعظم پر حاضری کے لئے اسی راستے سے بڑے بڑے بلوچ سردار رہنما ملک کے دیگر حصوں سے حاضری کے لیے آتے رہے ہیں جن میں خاص طور پر سابق صدر فاروق احمد خان لغاری، بلوچ سردار رہنما نواب محمد اکبر خان بگٹی، سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی ،سابق وفاقی وزیر محمد یار خان رند و دیگر بلوچ رہنما شامل ہیں۔ اس مقبرہ کی دیکھ بھال محکمہ آثار قدیمہ کے پاس تھی لیکن اب اس کی دیکھ بھال ( وال سٹی اتھارٹی لاہور )کے سپرد ہے مقبرہ ایک قلعہ کے اندر موجود ہے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس قلعہ کی تعمیر رنجیت سنگھ کے دور میں ہوئی تھی اور یہ قلعہ چھوٹی اینٹوں سے مضبوط اور خوبصورت بنایا گیا تھا جس کے داخلی اور خارجی دو دروازے تھے۔
قلعے کا کل رقبہ 4 ایکڑ 9مرلے پر محیط ہے اور اس کی آبادی اس وقت دس ہزار کے قریب ہے جس میں لوکل اور مہاجر آبادہیںجبکہ بلوچ قبیلے کا کوئی خاندان اس وقت یہاں آباد نہ ہے اس مقبرہ کی اونچائی 50فٹ تھی اس کی کوئی چھت نہ تھی اور مقبرہ آٹھ تکونوں پر مشتمل تھا۔ علاقہ مکیں کے مطابق اس مقبرے کی چھت اور مرمت کے لیے سابق وزیر اعلی پنجاب اور موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے وزیراعلی کی حیثیت سے 36 لاکھ روپے کی گرانٹ دی تھی۔جس سے متعلقہ ٹھیکیدار نے جستی چادر یں ڈال کر چھت بنادی جو کہ تیز آندھیوں کی وجہ سے اڑ گئیں۔ بعد ازاں مقبرہ کی بحالی کے لئے حکومت پنجاب نے 3366000/ْ روپے دئے جس کا سنگ بنیاد وفاقی وزیر برائے سرحدی و ریاستی امور نے 6 مئی 2007 کوا پنے دست مبارک سے رکھا۔ مقبرہ میر چاکر رند کے اندراس وقت میر چاکر اعظم کے علاوہ چھ دیگر قبریں بھی موجود ہیں جن میں دو قبریں بچوں کی بھی ہے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے والد محترم فتح محمد نے بھی میر چاکر اعظم کے مقبرے کا دورہ کیا تھا۔
ستگھرہ کے مقامی نمبردار نے میڈیا کو بتایا کہ جب بلوچ سردار نواب محمد اکبر خان بگٹی میر چاکر اعظم کے مقبرہ پر حاضری کے لئے آئے تو اس وقت کے مقامی ایم این اے سید سجاد حیدر کرمانی مرحوم بھی موجود تھے۔مقبرے کی خستہ حالی دیکھ کر نواب محمد اکبر خان بگٹی نے سید سجاد حیدر سے از راہ مذاق کہا کہ شاہ صاحب اگر آپ میر چاکر اعظم کے مزار کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو ہم میرا عظم چاکر کو یہاں سے اپنے بلوچستان لے جانے کو تیار ہیں ۔
تقسیم ہند سے پہلے یہاں پر ہندو اور سکھ برادری آباد تھی موجودہ وزیر اعلی سردار عثمان بزدار نے اس مقبرہ اوراس کے ساتھ ملحقہ گلیوں کی مرمت کے لیے جو رقم دی تھی وہ وال سٹی اتھارٹی لاہور کے ذریعے اس مقبرہ پر استعمال کی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد رقم یہاں پر آ چکی ہے اور رقم کا یہاں پر صحیح استعمال نہیں ہو رہا حالات بتا رہے ہیں ہے کہ اتنی رقم آنے کے باوجود اگر مقبرے اور ملحقہ بازاروں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ فنڈز کو بے دردی سے استعمال کیا گیا ہے اس وقت جو کام ہو رہا ہے وہ بالکل غیر معیاری غیر تسلی بخش ہے مزار کے ارد گرد جو ٹف ٹائل لگائی جارہی ہے وہ انتہائی غیر معیاری اور کمپیکشن کے بغیر لگائی جارہی ہے۔
علاقے کے لوگوں نے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبرے کے جار ی کام کے معیار اور اس کی رفتار کا خود جائزہ اور فوری نوٹس لیں اور اوکاڑہ ستگھرہ روڈ کا دورہ کریں تا کہ انہیں معلوم ہو کہ وہاں سے گزرنے والے کن مشکلات کا شکار ہیں اور ملک بھر سے آنے والے سردار بلوچ رہنما اس سڑک کی بدحالی کے سلسلہ میں کیا تاثر لے کر جاتے ہونگے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اگر وزیر اعلی پنجاب نے مقبرہ کی بحالی کے لئے اتنا فنڈ دیا ہے تو اس کا استعمال صحیح طریقے سے کروانا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ میر چاکر اعظم کی سالانہ برسی ہر سال دیسی مہینے بیساکھ میں منائی جاتی ہے اس کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی سردار بلوچ رہنما یہاں پر تشریف لاتے ہیں اور وہ یہاں پر خیرات و صدقات تقسیم اور دعا کے بعد چلے جاتے ہیں۔ مقبرہ کی دیکھ بھال کی مستقل ضروت ہے سردار عثما ن بزدار کواس بارے میں غور کرنا چاہیئے۔