اینٹی کرپشن، قومی خزانہ کو اربوں کا چونا لگانے والےمحکمہ ایکسائز کے کرپٹ افسران کو کلین چٹ دینے کے لئے متحرک
لاہور(ٹی این آئی)قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے محکمہ ایکسائز کے کرپٹ افسروں کو مبینہ طور پر کلین چٹ دینے کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن متحرک ہوگیا۔ذرائع کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن ریجن اے کے انوسٹی گیشن افسران نے ان افسروں کومبینہ طورپر 50لاکھ روپے کے عوض کلین چٹ دینے کا تہیہ کررکھاہے،تفصیلات کے مطابق ایک ماہ قبل محکمہ ایکسائزکے ای ٹی اوقاری غلام رسول اورایک انسپکٹر وحیدمیو سمیت ایجنٹ خرم گجر کے خلاف اینٹی کرپشن ریجن لاہور نے مقدمہ نمبر30/2020درج کیا

،ملزموں نے 465جعلی گاڑیاں رجسٹر کیں جن میں چھوٹی بسیں،لوڈر گاڑیاں وغیرہ شامل ہیں جبکہ اینٹی کرپشن کی سورس رپورٹ کے مطابق جعلی لوڈربسیں اور ٹرک وغیرہ کونمبرزالاٹ کئے گئے جو مارکیٹ میں موجودہیں ،

اینٹی کرپشن سورس رپورٹ کے مطابق ریکارڈ رجسٹر میں درج ویسپا سکوٹر کے نمبر پر ٹرکوں کو نمبر الاٹ کئے گئے جبکہ ایکسائز کے ریکارڈ رجسٹر میں ایل ای ڈبلیو 8350کاواساکی موٹرسائیکل رجسٹرڈ تھاجو کمپیوٹرڈیٹا کے مطابق لوڈر ٹرک کا نمبر رجسٹرڈ تھا،مذکورہ افسران نے پروگرامریونس گجر کے ساتھ مل کرایل ای کے سیریز ایل ڈبلیو این پر منتقل کیں ، علاوہ ازیں ملزموں پرایکسائز اینڈ ٹیکسیشن لاہور کے عملہ نے مفاد کنندگان کے ساتھ ملی بھگت کرکے جعلی آرمی آکشن پر بھی گاڑیاں رجسٹرڈ کرنے کے الزمات ہیں،اینٹی کرپشن رپورٹ کے مطابق مذکورہ افسروں نے طمع نفسانی کی خاطر قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچاکر کروڑوں روپے کی کرپشن کی ،یادرہے کہ اینٹی کرپشن کو 3سال قبل موصول ہونے والی ایک درخواست گزار کی درخواست پرمحکمہ ایکسائز کے جن افسران پر الزام عائد کیا گیا، ان میں ڈائریکٹرمحمد آصف ،سابق ڈی جی اکرم اشرف گوندل،ای ٹی اوز عدیل امجد ،قاری غلام رسول ،محمدنعیم ،کمپیوٹرانچارج محمد سلیم ،ڈائریکٹر محمد اسلم ،ڈی ای او کاشف کلیم ،انسپکٹر زعبداللہ ،وحید میو، خالد اورمظہر وغیرہ شامل تھے ،اسی طرح ان پرڈبل ٹرانسفر فیس، جعلی حاضری، 20سال کے بوگس ٹوکن،تبدیلی نمبر فیس، کنورشن فیس وغیرہ کی مد میں قومی خزانہ کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے ،ان مذکورہ افسران نے طمع نفسانی کی خاطرآرمی آکشن کی گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کیں،یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن ریجن لاہور نے منیر احمد سکنہ 18اے ڈی ایچ اے لاہور کی درخواست کوپس پشت ڈال کراپنی سورس رپورٹ میں درجن افسران پر مقدمہ درج کرنے کی بجائے ایک ای ٹی اوزقاری غلام رسول،انسپکٹرعبدالوحید اور ایجنٹ خرم کے خلاف خلاف مقدمہ کا اندراج کرکے تفتیش شروع کردی، ذرائع کے مطابق محکمہ اینٹی کرپشن ریجن اے کے انوسٹی گیشن افسران نے محکمہ ایکسائز کے باقی افسروں کے ساتھ مبینہ طورپر 50لاکھ روپے میں کلین چٹ دینے کا تہیہ کررکھاہے

، ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز کے افسران کے ساتھ مبینہ طور پر ڈی ایچ اے میں ایک واقعہ ہوٹل میں اعلیٰ افسروں کی موجودگی میں یہ معاملہ طے پائے جانے کا انکشاف ہواہے ،یادرہے کہ درخواست گزار منیر احمد کا دیاجانے والا ایڈریس خالی پلاٹ کادیاگیاہے ،اس حوالے سے ڈی جی اینٹی کرپشن گوہرنفیس کا کہناہے کہ مقدمہ میں محکمہ ایکسائز کے ذمہ دارافسروں کے خلاف کارروائی کرکے قومی خزانہ کی لوٹی گئی دولت کو واپس کی جائے گی اور ان کرپٹ افسروں کو رعایت دینے والے محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی
