کسی بھی معاہدے سے قبل اجرتی جنگجوؤں اور ترکوں کا نکالنا شرط ہے،حفترفوج
طرابلس (ٹی این آئی)لیبیا میں خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے شرط عائد کی ہے کہ بحران کے حل کے واسطے کسی بھی تجویز یا منصوبے کے ضمن میں پہلے اجرتی جنگجوں کی منتقلی کو روکا جائے۔ فوج نے ترک فورسز کی موجودگی میں سرت اور الجفرہ میں ہتھیار ڈالنے کو مسترد کر دیا ہے۔میڈیاپورٹس کے مطابق لیبیا کی فوج کے سینئر عہدے دار میجر جنرل خالد المحجوب نے بیان میں کہا کہ مسئلہ معاہدوں پر دستخط کرنا نہیں بلکہ ان کی شقوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ایسے کئی سمجھوتے ہیں جن کی بنیادی شقوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ ابھی تک مسلح ملیشیاؤں کو تحلیل کر کے ان سے اسلحہ نہیں لیا گیا۔ یہ چیز امن و استحکام اور اداروں کے قیام سے روکنے والی ہے۔ دوسری جانب ترکی ایک سے زیادہ مرتبہ یہ باور کرا چکا ہے کہ سرت شہر سے دست بردار ہونا وفاق حکومت کے لیے گھاٹے کا سودا ہو گا۔یاد رہے کہ سرت شہر لیبیا کے سابق مقتول سربراہ کرنل معمر قذافی کا آبائی شہر ہے۔ بعد ازاں یہ داعش تنظیم کا گڑھ بن گیا۔ اس شہر کو لیبیا کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان تزویراتی محل وقوع کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔