
حکومت پنجاب نےچیف انجینئر ٹیپا مظہر حسین کو دوبارہ ایل ڈی کا چیف انجینئر تعینات کر دیا۔
Editor Arshad mahmood Ghumman
لاہور(ٹی این آئی) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیف انجینئر ٹیپا اور چیف انجینٸر ایل ڈی اے مظہر حسین کو دوبارہ ایل ڈی کا چیف انجینئر تعینات کر دیا گیا ہے۔جبکہ سابق چیف انجینئر ٹیپا عبدالرزاق چوہان سے چیف انجینئر ایل ڈی اے کا اضافی چارج واپس لے لیا گیا ہے۔اور دوبارہ تعینات ہونے والے چیف انجینئر ایل ڈی اے مظہر حسین نے ہفتہ کے روز ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا تھا۔آج انہوں نے اتوار کے روز میگا ترقیاتی منصوبوں کا دورہ کیا ہے۔شاہکام اور شیرانوالہ فلائی اوور منصوبوں کے پائلنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔چیف انجینئر ایل ڈی اے نے افسران کو کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایات جاری کی اور کہا کہ میگا پراجیکٹس میں تعمیراتی معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔تمام منصوبوں میں تیز رفتاری اور شفافیت کو یقینی بنا کر مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔یہ بھی واضح رہے کہ سابق چیف انجینئر ایل ڈی اے عبدالرزاق چوہان کی اعلی افسران کو ترقیاتی کاموں کے منصوبوں میں تاخیر اور بعض کنٹریکٹرز کی مبینہ طور پر کرپشن کی شکایات ملنے پر ان سے اس عہدے کا اضافی چارج واپس لے لیا گیا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عبدالرزاق چوہان کی اپنے ماتحت افسران کے اوپر گرفت بھی مضبوط نہیں تھی اور خاص کر اربوں کے میگا پراجیکٹس میں بھی انہوں نے کافی بے ضابطگیاں بھی کی ہیں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی انہوں نے اپنے من پسند ٹھیکیداروں کو بھاری رشوت کے عوض بھی نوازا ہے۔جس پر ان کو اس عہدے پر ہاتھ دھونا پڑا تھا۔یہ بھی واضح رہے کہ عبدالرزاق چوہان اس سے قبل بھی اپنی ملازمت کے دوران کرپشن کی بنا پر ڈسمس فرام سروس بھی ہو چکے ہیں اور پھر اپنے اثررسوخ سے دوبارہ ملازمت میں بحال ہونے پر کامیاب ہو گئے تھے۔اب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے باقی چند ماہ رہے گئے ہیں اور انہوں نے محکمہ ایل ڈی اے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا ہے۔ذمہ دار ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے ایل ڈی اے کی کمائی سے کروڑوں روپے کے اپنے دو عدد مکسچر پلانٹ بھی بنا لئیے ہیں جن کا آڈٹ بہت زیادہ ضروری ہے۔اور حیران کن بات یہ ہے کہ ایل ڈی اے کےاعلی افسران نے اس معاملے پر اسرار خاموشی بھی اختیار کر رکھی ہے۔
