صحت و تعلیم

صوبہ پنجاب میں رواں سال کے دوران اب تک پولیو کے 9 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں

شیخوپورہ (ٹی این آئی) صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب میں رواں سال کے دوران اب تک پولیو کے 9 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں
جبکہ پچھلے سال اس عرصہ کے دوران ان کیسوں کی تعداد صرف پانچ تھی ہمارے نمائندہ نے اس اجلاس کے کمنٹس حاصل کیے ہیں جس کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب سیکرٹری آئی اینڈ سی سیکرٹری محکمہ لوکل گورنمنٹ ڈویڑنل کمشنروں ڈپٹی کمشنروں سمیت متعدد اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سال 2020ئ کے دوران اب تک پولیو کے رپورٹ شدہ کیسوں کی تعداد 9 ہوچکی ہے جبکہ سیوریج کے 63 فیصد نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے حالانکہ 2019ئ کے دوران یہ شرح 38 فیصد تھی اجلاس میں بتایا گیا کہ پولیس ایسے شہروں میں بڑھ رہا ہے جن میں ماضی میں کوئی کیس نہ پایا گیا تھا جن میں گوجرانوالہ سیالکوٹ شیخوپورہ اور سرگودھا کا علاقہ میانوالی شامل ہے اجلاس میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ دو اضلاع جھنگ اور فیصل آباد میں پولیو کی خطرناک قسم سی وی ڈی پی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں حالانکہ پولیو کا یہ وائرس پاکستان میں ختم ہوچکا تھا اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ پنجاب کے کئی اضلاع میں پولیو کی ویکسین کے لیے بچوں کو قطرے پلانے کا حدف پورا نہیں کیا گیا جس میں سب سے زیادہ تعداد صوبائی دارالحکومت لاہور کے بچوں کی ہے ماہ اگست میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تین اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ فیصل آباد اور ملتان میں تعداد سب سے زیادہ 14147 تھی حالانکہ یہ تعداد فروری 2020ئ میں چلائی جانے والی مہم کے دوران 2536 تھی تاہم کورونا وائرس کے خدشہ کی بنائ پر مذکورہ بچوں کے والدین نے قطرے پلانے کو ترجیح دی جس کی بنائ پر صرف انکار کرنے والے والدین کی تعداد صرف 6 رہ گئی ہے اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ان بچوں کو بھی فوری طور پر قطرے پلائے جائیں اجلاس میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کی وجہ سے اب حالیہ ستمبر کی انسداد پولیو کی مہم کے بعد اکتوبر نومبر اور دسمبر میں بھی انسداد پولیو کی خصوصی مہمیں چلائی جائیں گی اجلاس میں صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اور چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کی طرف سے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ خود پولیو مہم کی نگرانی کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button