
ایل ڈی اے کے با اثر چیف انجینئر عہدہ سنبھالتے ہی دوبارہ نیب کے ریڈار پر آگئے
By editor Arshad mahmood Ghumman
لاہور ( ٹی این آئی) ایل ڈی اے کے با اثر چیف انجینئر عہدہ سنبھالتے ہی دوبارہ نیب کے ریڈار پر آگئے ، مظہر حسین کو پونے دو سال قبل نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ڈی جی ایل ڈی اے نے محکمانہ انکوائری کے بعد معطل کر دیا تھا ۔ ایل ڈی اے چیف انجینئر مظہر حسین کو نیب لاہور کی جانب سے 24 جون کو طلب کر لیا گیاہے ۔

الیکشن کمیشن کیجانب سے ترقیاتی سکیموں اور فنڈز کی فراہمی پر عائد پابندی کے باوجود این اے 120 میں ترقیاتی کام کیوں کروانے پر بھی جواب طلب کیا گیا ہے ۔ یل ڈی اے کے چیف انجینئر کو 2016 تا 2018 کے دوران ٹیپا کیجانب سے این اے 120 میں کیے جانے والے تمام ترقیاتی کاموں اور سکیموں کے ریکارڈ سمیت طلب کر لیا گیا ۔این اے 120 میں مجموعی طور پر ٹیپا کیجانب سے کتنے پراجیکٹ اور سکیمیں شروع کی گئیں تفصیلات فراہم کی جائیں ۔ ذرائع کے مطابق 70 کروڑ سے زائد مالیت کے اثاثہ جات اور بینک اکاو¿نٹ بنانے کا الزام میں مظہر حسین کو تین ستمبر 2020 ءکو نیب نے گرفتار کیا جس کے بعد محکمانہ انکوائری کی گئی جس میں انہیں قصور وار قرار دیتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے معطل کر دیا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مظہر حسین اس قدر با اثر ہیں کہ کرپشن کے بھاری الزامات کے باوجود دوبارہ ایل ڈی میں چیف انجینئر تعینات ہوگئے ہیں ۔ جبکہ انہوں نے اپنی پہلے تعیناتی کے دوران مبینہ طور پر کم وبیش 50 کروڑ مالیت کے اثاثہ جات اپنے اور اہلخانہ کے نام بنائے۔نیب ذرائع کے مطابق مظہر حسین نے اپنے 20 ہزار ماہانہ کے ملازم بھانجے کے نام 20 کروڑ روپے منتقل کئے اور ایمنیسٹی سکیم کے نام پر کروڑوں روپے کے اپنے اور اہل خانہ کے اثاثہ جات میں اضافہ کیا۔ قبل ازیں نیب کی تحقیقاتی ٹیم کو مظہر حسین کی جانب سے 23 کروڑ اہل خانہ کے بینک اکاو¿نٹس میں منتقل کرنے کے شواہد حاصل ہوئے جس کے ذرائع ملزم تاحال ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مظہر حسین کے نام ایل ڈی اے ایونیو میں کنال کنال کے 3 پلاٹ موجود ہونے کا انکشاف ہوا جبکہ دس دس مرلہ کے 2 پلاٹ بھی ایل ڈی اے ایونیو سوسائٹی میں پائے گئے۔ مظہر حسین کے نام مزنگ لاہور میں 4 قیمتی فلیٹ ہونے کا انکشاف ہوا جنہیں فروخت کرتے ہوئے ملزم نے کروڑوں روپے بنائے جبکہ موضع امیر پورہ میں 16 کنال 11 مرلہ اراضی کی موجودگی بھی پائی گئی۔بعد ازاں ملزم کے ذاتی اکاﺅنٹ میں 8 کروڑ منتقل ہوئے جس کا ذرائع بھی نہ بتائے جا سکے۔
