
لاہور(ٹی این آئی)ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسییشن پنجاب نے 2007 میں 37ایکسائز کانسٹیبل گریڈ 16 میں غیر قانونی طور پر بطور ایکسائز انسپکٹرز پرموشن ثابت ہونے پرڈائریکٹرز کو ان کی تنزلی کےاحکامات جاری کر دئیے فیصلہ معاملہ کی انکوائری کے بعدجاری کیا گیا اس بابت ڈی جی ایکسائیز نے مذکورہ افسران کے خلاف کارروائی اور ریکوری کےلئے ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہےتفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسییشن موٹر رجسٹریشن کے سابق ڈی جی اور2007 کے وقت ریجن اے کے ڈائریکٹر اکرم اشرف گوندل اور سابق ڈی جی سلطان سکندر راجہ نے 2007 میں غیر قانونی طریقے سے 37 اہلکاروں جن میں ناصر حسین شاہ،عمیر گیلانی،طارق جاوید،ایاز خان، شہزادہ مزمل علی،عمران ایوب،سید محبوب الحسن،محمد فرمان،عبدالعزیز، افتخار جہانگیر، عدنان جاوید، سردار علی ،صفدر عباس،محمد نواز،فرخ ماویہ،غلام رسول،محمد صدیق، شمشاد علی،جہانگیر احمد وٹو،آفتاب محمد،نصراللہ چیمہ،محمد زاہد،محمد فاروق، محمد یوسف،یاسر مشتاق،معسود اختر،مقبول احمد، محمد حفیظ، محمد اشفاق، طارق محمود، شہزاد محمود،حسن رضا،جاوید احمد،جاوید اقبال، خضر وقاص،سلیم اقبال اور فیصل شہزاد سمیت غیر قانونی طور پر ایکسائز انسپکٹر پرموٹ کیا،جن کی تحقیقات موجودہ ڈی جی ایکسائیز پنجاب صالحہ سعید نے شروع کیں تو مذکورہ اہلکار اپنی پروموشن کے ثبوت پیش نہ کر سکے جس پر ڈی جی نے تمام ایکسائز اہلکاروں کو واپس کانسٹیبل اور کلرک کے عہدوں پر تنزلی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں، جبکہ ڈی جی صالحہ سعید نے
تمام ایکسائز اہلکاروں سے غیر قانونی ترقی کی مد میں 14 سال کی تنخواہ مراعات واپس ریکور کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے ہیں یاد رہے کہ اس وقت کےسابق ڈی جی ایکسائز سلطان سکندر راجہ اور ڈایرئکٹر اکرام اشرف گوندل نے مذکورہ اہلکاروں سےلاکھوں روپے رشوت لیکر تمام اہککاروں کو پرموٹ کیا جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔تاہم اس حوالے سے ڈی جی ایکسائیز پنجاب صالحہ سعید کا کہنا ہے غیر قانونی پرموشن کے خلاف ایکشن لے کر محکمہ میں میرٹ پر تقرری کے منتظر اہلکاروں کے لئے راہ ہموار ہوئی ہے اور بطور ڈی جی ایکسائیز اپنے فرائض کو نہایت ایمانداری سے چلانے کا فریضہ سر انجام دیتی رہوں گی اور محکمہ میں کرپٹ افسران کی فہرستیں مرتب کی جارہی ہیں جن کے خلاف بھی بھر پور ایکشن لیا جائے گا