پاکستان

پرویز الٰہی اور عمران خان نے شکست دیکھی تو ایوان میں حملہ کر دیا

ڈپٹی اسپیکر  دوست محمد مزاری پر بدترین تشدد کیا گیا اور  اسمبلی کے تقدس کو  پامال کیا گیا۔خواجہ آصف بھی بول پڑھے

اسلام آباد (ٹی این آٸی)پنجاب اسمبلی میں ہونے والی بدترین بد نظمی پر مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر  دوست محمد مزاری پر بدترین تشدد کیا گیا اور  اسمبلی کے تقدس کو  پامال کیا گیا۔قومی اسمبلی پرویز الٰہی اور عمران خان نے شکست دیکھی تو ایوان میں حملہ کر دیا اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پنجاب کےڈپٹی اسپیکر کو تھپڑ مارا گیا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے، ملک میں آئین کی بالادستی ہو، غنڈی گردی کی اجازت نہ دی جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹیرینز کی حیثیت سے ہمارے لیےباعث شرم ہےکہ ڈپٹی اسپیکرپرحملہ کیاگیا، عمران خان اور پرویز الٰہی بدترین ہتھکنڈے استعمال کر رہےہیں، یہ لوگ غیر قانونی طریقے سےکرسی سے چمٹے رہنا چاہتےہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ انتقال اقتدار آئین اور قانون کےمطابق ہوئی، پنجاب میں پرویز الٰہی گجرات سے غنڈے لائے ہوئے ہیں، پنجاب میں جو رہا ہے غیر آئینی، غیر قانونی اور غنڈہ گردی ہے۔لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پنجاب میں بھی اقتدار کی منتقلی کا عمل آئین و قانون کے مطابق ہونا چاہیے، پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر  پر  پی ٹی آئی اور  ق لیگ کے لوگوں نے تشدد کیا، ڈپٹی اسپیکر  پنجاب اسمبلی پر  تشدد افسوسناک ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پرویز الٰہی اور عمران خان نے شکست دیکھی تو ایوان میں حملہ کر دیا، جو زخم چار سال میں ریاست پر لگا، اس پر مرہم لگائیں۔

 

 

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت آج ساڑھے 11 بجے شروع ہونا تھا تاہم پہلے حکومتی اراکین کے اسمبلی ہال نہ پہنچنے کے باعث اجلاس تاخیر کا شکار ہو ا۔اسمبلی اراکین کو ایوان میں بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کے دعووں کے باوجود حکومتی خواتین اراکین اسمبلی میں اپنے ساتھ لوٹے بھی لے آئیں اور  انہوں نے لوٹے لوٹے کے نعرے لگانا شروع کر دیے جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا۔

 

بعد ازاں جب ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہال میں پہنچے تو حکومتی اراکین کی جانب سے ان کی جانب لوٹے اچھالے گئے اور ان کی ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا، حکومتی اراکین کی جانب سے دوست محمد مزاری کو تھپڑ مارے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، سکیورٹی اسٹاف اور اپوزیشن اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو حکومتی اراکین سے بچایا جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر میں چلے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button