ایل این جی سے متعلق علی زیدی کے ٹویٹ سفید جھوٹ کا پلندہ ہیں جو پی ٹی آئی کے وزیروں کی خاص پہچان اور ہمیشہ کا وطیرہ ہے، مفتاح اسماعیل
کراچی(ٹی این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی وزیر علی زیدی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل این جی سے متعلق علی زیدی کے ٹویٹ سفید جھوٹ کا پلندہ ہیں جو پی ٹی آئی کے وزیروں کی خاص پہچان اور ہمیشہ کا وطیرہ ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ فائیو ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ بندرگاہوں کا وزیر’ ایل این جی’ ٹرمینل کے بارے میں ٹویٹ کیوں کررہا ہے؟ حالانکہ یہ ذمہ داری تو وزیر پٹرولیم کی ہے ایل این جی سے متعلق علی زیدی کے ٹویٹ سفید جھوٹ کا پلندہ ہیں جو پی ٹی آئی کے وزیروں کی خاص پہچان اور ہمیشہ کا وطیرہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ مجھ پر یہ ذاتی حملہ کیوں کیاگیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حال ہی میں میرا یہ بیان تھا جس میں ، میں نے یہ کہا تھا کہ بندرگاہوں کے وزیر کمپنیوں کو بندر پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل لگانے کی اجازت دینے میں تاخیری حربے اختیار کررہے ہیں اور قانونی اور ‘غیرقانونی تلافی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ میں نے جو بات کہی ہے ، یہ کوئی راز نہیں بلکہ بچہ بچہ اس کے بارے میں جانتا ہے، اس وجہ سے وزارت پٹرولیم کے حکام اور سرمایہ کاروں میں شدید غم وغصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت دو سال میں ایک ایل این جی ٹرمینل نہیں لگاسکی جس کے نتیجے میں ملک تاریخی گیس بحران کا شکار ہے جو وقت کے ساتھ مزید بدتر ہوگا۔ وزیر علی زیدی نے دعویٰ کیا کہ ہمارے لگائے ہوئے ایل این جی ٹرمینلز دنیا میں انتہائی مہنگے ہیں اور ہمارے دعوے کے مطابق دنیا میں سستے ترین نہیں ہیں اپنے اس مضحکہ خیز دعوے کے حق میں انہوں نے دو کاغذات بھی لہرائے۔انہوںنے کہاکہ ووڈ میکنزی میگزین کی تصویردکھاتے ہوئے بتایا کہ اینگرو ‘ ایل این جی ٹرمینل کے اخراجات 66 سینٹ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں،علی زیدی کے اس جھوٹ کے جواب میں حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ کنٹریکٹ اور مارکیٹ شرائط کے مطابق پہلے سال جب ہم کم پیداواری صلاحیت پر اسے چلارہے تھے، اس وقت بھی اینگرو ایل این جی ٹرمینل اسی طرح کے دیگر ٹرمینلز کے موازنہ کے لحاظ سے دنیا کا سب سے سستا ترین تھا۔ اگلے سال جب ایل این جی کے ہر ماہ چھ کارگو آنے لگے تویہ دنیا میں ایل این جی سے چلنے والا سستا ترین ٹرمینل میں بن گیا اور آج بھی سستا ترین ہے۔ انہوں نے جو دوسری تصویر دکھائی ہے اس میں پی جی پی ایل ٹرمینل کے ٹرمینل چارجز 2.29 ڈالر دکھائے گئے۔ اگر علی زیدی اسی جدول کوغور سے دیکھیں تو انہیں دکھائی دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارچ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے صرف ایک کارگواس ٹرمینل سے منگوایا۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ کارگو منگوانے میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان میں گیس کا بڑا بحران پیدا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ایل این جی کارگوز حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہی؟ اورملک کا اربوں روپے کا نقصان کردیا۔ انہوںنے کہاکہ اینگرو ٹرمینل کے اخراجات اسی مدت کے دوران 41 سینٹ تھے جہاں 6 ایل این جی کارگوز میں ہر ماہ گیس بھری جاتی تھی،یہ ری گیسفیکیشن دنیا میں سستی ترین ہے۔ علی زیدی نے اوگرا کی مارچ2020 کی ورک شیٹ دکھائی،میں جون 2020کی اوگرا کی ورک شیٹ دکھارہا ہوں جس میں دونوں’ ایل۔ این۔ جی’ ٹرمینلز سے 6 ایل این جی کارگوزمیں گیس بھری گئی اور یہ ‘ری۔گیسفیکیشن’کے اخراجات 39 اور40 سینٹ تھے۔ یہ علی زیدی کے جھوٹ کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوںنے کہاکہ علی زیدی کی نااہلی اور بدنیتی واضح ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے کم ترین کپیسیٹی چارج کو کیوں تسلیم کیا، یہ ایک بے بنیاد اور فضول بیان ایسے وزیر نے دیا ہے جو دو سال سے دعوے کررہا ہے کہ تین مزید ایل این جی’ ٹرمینلز لگارہا ہے۔پاکستان میں آئی پی پیزسمیت دنیا بھر میں ٹالنگ کا ہر منصوبہ کم ترین کپیسٹی چارج’ پر لگایاجاتا ہے،کوئی بھی سرمایہ کار آخر کار ایک فسیلیٹی پر سرمایہ کاری کیوں کرے گا جس کا کوئی متبادل نہ ہو اور جب تک کہ اس کے کم ترین استعمال کی ضمانت میسر نہ ہو۔ علی زیدی نے مزید ذاتیات پر اترتے ہوئے یہ کہا کہ میں نے ایم ڈی پی ایل ٹی ایل جناب اعظم صوفی کو غیرقانونی حکم دیا کہ پی ایل ٹی ایل کا خسارہ چھپایا جائے اوراسی وجہ سے انہوں نے استعفی دے دیا۔ انہوںنے کہاکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ جب تک پاکستان مسلم لیگ (ن) اقتدار میں تھی، اس وقت تک پی ایل ٹی ایل میں کوئی خسارہ نہیں تھا،دوسری بات یہ ہے کہ جناب صوفی بطور ایم ڈی پی ایل ٹی ایل مجھے جوابدہ نہیں تھے،اب انہوں نے جو تصویر جاری کی ہے، اس کاجائزہ لیں،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں پی کیو اے کو کنسلٹنٹ کی خدمات لئے بغیر دو’ ایل این جی’ ٹرمینلز کی اجازت دی گئی لیکن پی ٹی آئی کے دور میں ‘پی کیو اے’ نے ایک ”انفرادی کنسلٹنٹ’ کی خدمات حاصل کیں اور اندازہ کریں کہ اس کے لئے جناب صوفی کا نام ہی چنا گیا لیکن بدقسمتی سے 20 ہزار ڈالر ماہانہ کی تنخواہ پر ان کی خدمات حاصل نہیں کی جاسکیں۔ تنخواہ اور مراعات کے اس پیکج میں ان کی گاڑی، پٹرول اور فرنشڈ رہائش بھی شامل ہے ، 80 ہزار ڈالر سالانہ بونس الگ سے ہے۔ اگر ان کو ملازمت سے برخاست کیاگیا تو انہیں 2 لاکھ 40 ہزار کا پیکج دینا ہوگا،یہ سب ایک کنسلٹنٹ سے متعلق ہے کیونکہ’ پی۔کیو۔اے’ نے ایک ایل این جی ٹرمینل کی گنجائش پیدا کرنا تھی۔ پھر انہوںنے پی جی پی ایل کی طرف سے کسی ”داماد” کے وزارت پٹرولیم کے حکام سے ملاقاتوں کے بارے میں الزامات عائد کئے ہیں،اْن کی اِس کم ظرفی پر میں ہنس ہی سکتا ہوں اور چاہوں گا کہ ‘پی۔جی۔پی۔ایل’ اس جھوٹ کا خود جواب دے۔