
پاکستان کو دہشت گردی اور معیشت کے چیلنجز؟
Chief executive Arshad mahmood Ghumman
میرا آج کا کالم/حقیقت
تحریر:ارشدمحمود گھمن)
پاکستان کو بیک وقت ایک نہیں کئی محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے اور ہر محاذ دوسرے سے مشکل اور کٹھن ہے۔ملکی معیشت سسک رہی ہے اور حکومت اقتصادی پوزیشن بہتر کرنے کے لئے سو سو جتن کرنے چلی ہے۔دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان درد سر بنی ہوئی ہے اور سلامتی کونسل،پاک فوج اور وزیر داخلہ اس پر سر جوڑے بیٹھے ہیں۔پاکستان کو بیتتے لمحات اور گزرتے شب وروز میں معیشت،دہشتگردی اور توانائی کی قلت جیسے انتہائی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔مسائل ہیں کہ بڑھتے جاتے ہیں ،مشکلات ہیں کہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔گزشتہ حکومت جاتے وقت معیشت کی بنیادوں میں جو بارودی سرنگیں بچھا گئی تھی،اسحاق ڈار سر توڑ کوشش کررہے ہیں کہ وہ بارودی سرنگیں صاف کر دی جائیں اور معیشت کو پاﺅں پر کھڑا کر دیاجائے۔
ملکی معیشت تو خیر گرتے پڑتے چل پڑے گی لیکن دہشتگردی کا اژدھا جو پھن پھیلائے کھڑا ہے،اس کا سر فوری اور جلدی کچلنا پڑے گا۔دہشتگردی ملکی معیشت کیا عوام اور ریاست تک کو نگل رہی ہے۔امن و امان خواب ہو جاتا ہے اور انارکی و طوائف الملوکی عام ہوئی جاتی ہے۔دہشتگردوں کا ایجنڈا ہے کہ چہار سو ملک میں بم دھماکے اور قتل و غارت ہوتی رہے۔ابھی حال ہی میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے اپنے لیٹر پیڈ پر مسلم لیگ او ر پیپلز پارٹی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں اور وہ خط نما اعلان سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔یقیناً اعلیٰ حکام کے اجلاسوں میں بھی وہ زیر غور آیا ہو گا اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو جونام لے کر دھمکی دی گئی ہے ،اس پر بھی گفت و شنید ہوئی ہوگی۔جنرل ہیڈ کوارٹر میں بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور آپریشن کی تیاریوں بارے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
گماں گزرتا ہے کہ پاکستان اب اہم منطقے میں داخل ہو رہا ہے۔ایک جانب ملکی ذخائر صرف ساڑھے پانچ ار ب ڈالر رہ گئے ہیں اور آئی ایم ایف امیر حسینہ کی طرح بازو نہیں پکڑا رہا اور دوسری جانب دہشتگرد رفتہ رفتہ اپنی کمین گاہوں سے باہر نکل کر حکومت اور فوج کو للکاررہے ہیں۔و فاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے نیشنل سکیورٹی میٹنگ میں سیاسی اور عسکری قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے دہشتگرد تنظیموں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ افغانستان سے جو دراندازی ہوتی ہے اس حوالے سے افغانستان حکومت سے بات کی جائے گی۔ طالبان پہلے ہتھیار پھینکیں پھر ان سے بات ہو گی۔ دہشت گردی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کو مرکزی سطح پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیرِ داخلہ نے مزید کہا خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے67 فیصد، بلوچستان میں31 فیصد اور پنجاب اور سندھ میں ایک ایک فیصد واقعات ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹ پر حملے کی دھمکی دینے والے دو دہشتگردوںکو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کا ایک نیٹ ورک بھی پکڑا گیا ہے۔
رانا ثنا اللہ یہ کی باتیں بجا اور روا لیکن اب حکومت کو باتوں کی بجائے عملی اقدام کرنا ہوگا تبھی دہشتگردوں کو نکیل ڈالی جا سکے گی۔دہشتگردوں نے کئی بار جنگ بندی کا معاہدہ کیا لیکن بعد میں وہ اپنی اصل ہیت میں آگئے۔عمران خان کے سابقہ دور میں جنگجوﺅں کے باب میں انتہائی نرم پالیسی اپنائی گئی جس کی وجہ سے وہ شیر ہو گئے ہیں۔بلکہ پختونخو اکی صوبائی حکومت اب بھی اپنے علاقوں میں کوئی قابل ذکر کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں مگر صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت سے لڑنے اور مرکز پر وار کرنے سے فرصت نہیں۔عمران خان کی وجہ سے صوبائی حکومت بھی عملی اقدام کرنے سے قاصر ہے۔عمران خان نے ملکی معیشت ہی تباہ نہیں کی بلکہ پاکستان کا امن بھی داﺅ پر لگا رکھا ہے۔وہ فوج کو یکسو ہو کرکام نہیں کرنے دے رہے جس وجہ سے سکیورٹی اداروں کی توجہ بھی تقسیم ہو رہی ہے۔جاننا اور ماننا چاہئے کہ عمران خان کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں ہو رہی ۔وہ ایک جانب حکومت کو الجھا رہے ہیں تو دوسری جانب فوج پر دباﺅ بڑھا رہے ہیں۔یہ صورتحال تشویشناک ہی نہیں غضب ناک بھی ہے۔
حکومت پاکستان اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی معطلی اور پھر جنگ بندی کے خاتمے کے بعد شدت پسندوں کی جانب سے گذشتہ ایک ماہ میں60 سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں۔مئی 2022 میں جب کالعدم تحریک طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو اس کے بعد خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں پر حملے ہو چکے ہیں۔جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر شدت پسندوں نے نئے حملے شروع کر دیئے ہیں۔ بیشتر حملوں میں تھانے اور پولیس کی گاڑیاں، سکیورٹی فورسز کے قافلے اور چوکیاں نشانہ بنائے گئے ہیں ۔اگرچہ تشدد کے یہ واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے ہیں لیکن اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے بعد لوگوں میں خوف مزید بڑھ گیا ہے۔ان حملوں سے بظاہر ایسا تاثر بھی سامنے آیا ہے جیسے ملک میں امن ومان کا قیام تحریکِ طالبان کی مرضی پر منحصر ہو اور وہ جب چاہیں ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کو درہم برہم کر سکتے ہوں۔ اب وفاقی حکومت اور پاک فوج کو حتمی اور قطعی آپریشن کا فیصلہ کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان میں امن ایک خواب رہے گا۔