
لاہور(ٹی این آئی نیوز)سیف سٹی لاہو، 8 ہزار میں سے 35 سو کیمرے گزشتہ ڈیڑھ سال سے خراب پڑے ہیں۔ صرف سڑکوں پر30 نصب کیمرے فعال ہیں۔ تاہم اتھارٹی کو خراب کیمروں کی مرمت کرنے کے لیے نجی فارن کمپنی نے رضا مندی ظاہر کردی ہے کہ وہ جلد کیمروں کوٹھیک کرنا شروع کردے گی اس کے لیے اتھارٹی اور کمپنی کے درمیان معاہدہ پایاگیا ہے ،تفصیلات کے مطابق پنجاب سیف سٹی اتھارٹی لاہور شہر کو محفوظ بنانے کیلئے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت شہر کی شاہراہوں پر 8 ہزار کیمرے نصب کئے گئے تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال سے معاہدہ ختم ہوچکا ہے، اور پھر 3 ہزار کیمرے خراب ہوگئے، جبکہ اب صرف شاہراہوں پر 30کیمرے فعال ہیں۔کیمروں کی تنصیب کیلئے غیرملکی کمپنی سے کیا گیا معاہدہ ڈیڑھ سال سے التوا کا شکار ہے۔موجودہ ایم ڈی اور چیف آپریٹنگ آفیسر کامران خان کا کہنا ہے کہ لاہور میں مجموعی طورپر آٹھ ہزار کیمرے لگائے گئے ہیں جن میں سے بہت زیا دہ خراب پڑے ہیں، ان کی مرمت کے لیے فارن کمپنی سے معاملات طے پاگئے ہیں، معاہدہ کی روح سے کیمروں کی دیکھ بھال کے لیے پانچ سال تک کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ کیمروں کی دیکھ بھال اور مرمت کریں گے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر کمپنی نے ایگری منٹ کی پاسداری نہیں کی تھی لیکن اب اس مسئلہ کوحل کرلیاگیا۔کامران خان کا کہنا ہے کہ 400 نئے کیمرے نصب کیے جارہے ہیں، تاہم جہاں کیمرے نہیں وہاں پولیس کی گاڑیوں پر لگے کیمروں سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے، نجی کمپنیوں اور ہاو¿سنگ سوسائیٹیز کے کیمروں کو بھی سیف سٹی سسٹم کے ساتھ منسلک کررہے ہیں۔کامران خان کا کہنا ہے کہ شہر کے مزید 11 داخلی اور خارجی راستوں پر کیمرے لگائے جارہے ہیں، جن سے گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں کمی آئے گی،ذرائع نے بتایا کہ کیمرے خراب ہونے کی وجہ سے متعدد مقامات پر ان سیف سٹی اتھارٹی کی مانیٹرنگ کرنے میں دشواری کاسامنا کرنا پڑتاہے لیکن کیمرے لگائے جانے کی وجہ سے جرائم کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ سیف سٹی اتھارٹی کے ساتھ ساتھ ون فائیو کانظام بھی فعال بنایاگیا ہے جس کی وجہ سے پولیس کوفوری طورپر الرٹ کیاجاتاہے۔چیف آپریٹنگ آفیسر ڈی آئی جی کامران خان کہتے ہیں کابینہ منظوری دے چکی ہے، جلد غیرملکی کمپنی سے دوبارہ معاہدہ ہوجائے گا۔