
لاہور(ارشدمحمود گھمن) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں موٹر رجسٹریشن آٹھارٹی سمارٹ کارڈ آن لائن سسٹم مشین کی خرابی کے باعث ہزاروں سائلین کی جانب سے گاڑی کے سمارٹ کارڈ کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پرسیکرٹری ایکسائیز وقاص نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران سے جواب طلب کرلیا،تفصیلات کے مطابق ڈی جی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فیصل یوسف اورانچار سمارٹ کارڈ فیصل شفیق عوام کو درپیش مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ،یادرہے کہ محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسییشن موٹر رجسٹریشن ریجن سی لاہور سمیت پنجاب کے 9 ریجن کو بائیو میٹرک سسٹم میں لانے کے لئے حکومت پنجاب نے 30 جون کی ڈیڈ لائن مقرر کی جس پر پنجاب بھر سے اوپن ٹرانسفر ڈیڈ پر گاڑی مالکان نے 30 جون تک لاکھوں کی تعداد میں گاڑیوں کی ٹرانسفر کڑوا کر محکمہ ایکسائیز کو اربوں روپے کا ریونیو جمع کروایا مگر محکمہ ایکسائیز اور حکومت پنجاب کی ناقص حکمت عملی کے با عث بائیو میٹرک سسٹم تاخیر کا شکار ہوگیا اور یکم جولائی سے آج تک ریجن سی لاہور کے دفاتر میں اوپن ٹرانسفر ڈیڈ پر لی گئی گاڑی مالکان دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے مگر پراپر طریقے سے عملہ ان کے ساتھ کواپریٹ نہیں کر رہا بلکہ الٹا سسٹم کی خرابی کا کہہ کر ٹال مٹول کیا جارہا ہے،ذرائع نے بتایا گزشتہ کئی روز سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ سمارٹ کارڈ کے حصول کے لئے ریجن سی لاہور میں شدید گرمی کے باعث چکر لگا لگا کر تھک گئے ہیں، جب گاڑی مالکان سمارٹ کارڈ انچارج فیصل شفیق سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ آن لائن ڈیٹا اپلوڈ کرنے والے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ڈی جی پر ڈال دیا جاتا ہے مگر گزشتہ کئی روز سے گاڑی مالکان کے سمارٹ کارڈ کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کوئی آفیسر بھی تیار نہ ہے۔شہریوں نے محکمہ ایکسائیز پر بائیو میٹرک سسٹم کے نام پرریونیو اکٹھا کر نے کے الزامات عائد کئے ہیں۔تاہم اس حوالے سے ڈی جی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فیصل یوسف نےمحکمہ ایکسائیز کی طرف سے لگنے وے الزام کو غلط قرار دیتے ہوےکہا ہے کہ ہمارا سسٹم صحیح طریقے سے کام کر رہا دوسری طرف انچارج سمارٹ کارڈ فیصل شفیق کا کہنا ہے کہ سمارٹ کارڈ مشین کی سروس کی وجہ سے مزید دو دن تک کارڈ پرنٹ نہیں کئے جا سکیں گے ،یادرہے کہ سیکرٹری ایکسائز وقاص اور ڈی جی پنجاب صالحہ سعید نے اپنی تعیناتی کے دوران سمارٹ کارڈ کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے انتھک محنت اور کاوش کے ساتھ کارڈ نہ بننے کے بریک تھرو کو ختم کیا اور جلد ہی سمارٹ کارڈ کے حصول کو ممکن بنا کرعوام کے دیرنیہ مسئلہ کو حل کیا،ذرائع کے مطابق اس وقت ڈی جی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فیصل یوسف اورانچار سمارٹ کارڈ فیصل شفیق نے مبینہ طور پر ایجنٹ مافیا کے ساتھ ملی بھگت کرکے سمارٹ کارڈ کے حصول میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں مصرف ہیں،اسی وجہ سے گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے پھر سے سمارٹ کارڈ کا حصول عوام کے لئے دردسر بن گیا ہے اور عام دربدر کے دکھے کھانے پر مجبور ہیں،اس حوالے سے ڈی جی ایکسائیز پنجاب صالحہ سعید نے کہا ہے کہ یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ،معاملہ کی تحقیقات کے بعدذمہ داروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی ۔
(سائید سٹوری)
لاہور(ٹی این آئی)محکمہ ایکسائیز اینڈ موٹر رجسٹریشن آٹھارٹی کے سمارٹ کارڈ کے سسٹم کی خرابی کے باعث ایجنٹ مافیا اورعملہ کی موجیں لگ گئیں سمارٹ کارڈ سسٹم میشن کی خرابی کا بہانہ بنا کر پروٹوکول سمارٹ کارڈ کے نام پر فی کارڈ 10 ہزار کمانے لگے،ذرائع کے مطابق سمارٹ کارڈ کے انچارج فیصل شفیق نے مبینہ طورپر ایجنٹ مافیا کے ساتھ مل کر سسٹم میشن میں خرابی کا بہانہ بنا کر گاڑی مالکان سے لاکھوں روپے لوٹنے میں مصرف ہیں جبکہ ایجنٹوں کے ذریعے سمارٹ کارڈ ملنا شروع ہو گئے ہیں لیکن شریف شہری سمارٹ کارڈ کے حصول کے لئے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے پاس مبینہ طور پر ان کرپٹ افراد کو رشوت دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔