انٹرنیشنلاہم خبریں

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہیں بھی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو صحافی ارشد شریف کے قتل کا ذمہ دار نہیں کہا گیا،لندن ہائی کورٹ

Chief Editor arshad mahmood ghumman

لندن(ٹی این آئی) لندن ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ 600 صفحات کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہیں بھی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو صحافی ارشد شریف کے قتل کا ذمہ دار نہیں کہا گیا۔لندن ہائیکورٹ میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر اور میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے درمیان ہتکِ عزت کیس میں عادل راجہ کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ رپورٹ کو اگر "جگسا پزل ” کی طرح جوڑا جائے تو نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ تین سال پہلے کینیا میں ارشد شریف کے قتل کے پیچھے ایجنسی کا ہاتھ ہے۔اس پر جج نے 600 صفحات کی سرکاری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ میں نے پوری رپورٹ پڑھی ہے اور رپورٹ میں کہیں بھی آئی ایس آئی کو قتل میں ملوث نہیں قرار دیا گیا۔

جج نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی اس قتل میں ملوث ہوتی تو رپورٹ میں واضح طور پر اس کا ذکر ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے۔کیس کی سماعت کے دوران لندن ہائیکورٹ کے جج نے ریمارکس میں کہاکہ ذرائع کی ساکھ ہمیشہ اہم ہوتی ہے، اگر ذرائع غیر معتبر ہوں یا کوئی خفیہ ایجنڈا ہو تو فراہم کردہ معلومات بھی ناقابلِ اعتبار ہو سکتی ہیں۔

میجر ریٹائرڈ عادل راجا کے خلاف برگیڈیئر راشد نصیر کے ہتک عزت کیس کا فیصلہ چند ہفتوں میں سنایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button