
لاہور (ٹی این آئی) PAK.P.W.Dسینٹرل زون لاہور رشید چوہدری اپنے ماتحت ایگزیکٹیو انجینئر جاوید اختر کی ایمانداری کا درس دینے لگا،ٹھیکیداروں کو مبینہ طورپر 30ارب روپےکے ترقیاتی منصوبوں میں پائے جانے والی بے ضابطگیوں کے حوالے سے بھر پور ساتھ دینے کی یقین دہانیاں کروانے لگا،
ذرائع کے مطابق مذکورہ افسران کے خلاف شہری کی طرف سےدی جانے والی درخواست پر نیب نے ریفرنس کی تیاری کے لئے تحقیقات کا دائرہ اختیار وسیع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ذرائع کے مطابق محکمہ کے ایگزیکٹیو انجینئر سمیت دیگر افسران نے سیالکوٹ اور لاہور کے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں طمع نفسانی کی خاطر ناقص میٹیریل کا استعمال اور مبینہ طورپر بوگس ادائیگیاں کیں جس پر ایک شہری نے چیئرمین نیب کو تحریری درخواست میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کے حوالے سے آگاہ کیا اور مذکورہ افسران کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے،
ہمارے ذرائع کے مطابق چیف انجینئر سینٹرل زون لاہور نے ایگزیکٹیو انجینئر جاوید اختر کا تحفظ کرنے کے ٹھیکیداروں کو کا گھیراو کر کے مالی معاونت کرنے کا درس دینا شروع کر دیا ہے جب اس حوالے سے موقف حاصل کرنے کے لئے چیف انجینئر اور مذکورہ ایگریگیٹو انجینئر سے رابطہ کیا تو تمام افسران نے خاموشی اختیار کر لی اور موقف دینے کی بجائے زبان بندی کا اشارہ دیا ہے؟
یاد رہے مذکورہ ایگزیکٹیو انجینئر جاوید اختر سیالکوٹ پر کشس سیٹ پرعرصہ 7سال کی تعیناتی کے بعد آجکل چیف انجینئر سینٹرل زون لاہور کی ناک تلے رائٹ سرکل ون لاہور میں تعینات ہے۔