اہم خبریںپاکستان

موجودہ عالمی مسائل، جن میں تنازعات، عدم مساوات اور معاشرتی تقسیم شامل ہیں، ان کے حل کے لیے مذاہب کی اخلاقی رہنمائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔احسن اقبال

Chief Editor Arshad Mahmood Ghumman

اسلام آباد (ٹی این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے آج اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اینڈ اسٹریٹجیز کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان “ثقافت اور کمیونٹی: امن، ہم آہنگی اور انصاف کے فروغ میں مذاہب کا کردار” سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ موجودہ عالمی مسائل، جن میں تنازعات، عدم مساوات اور معاشرتی تقسیم شامل ہیں، ان کے حل کے لیے مذاہب کی اخلاقی رہنمائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب انسانیت کے وقار، امن اور انصاف کو بنیادی اصولوں کے طور پر اپناتے ہیں، تاہم بدقسمتی سے، عدم برداشت، تعصب اور تشدد جیسے عوامل ان اعلیٰ اقدار کو پامال کر رہے ہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے قائدین، پالیسی سازوں اور مذہبی برادری پر زور دیا کہ وہ تعصبات اور تقسیم سے بالاتر ہو کر ہم آہنگی اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ “امن، ہم آہنگی اور ترقی کے مابین ایک ناقابل تردید تعلق موجود ہے، اور کسی بھی معاشرے میں پائیدار ترقی کا خواب باہمی احترام اور بقائے باہمی کے بغیر ممکن نہیں۔”

 

انہوں نے وضاحت کی کہ ایک معاشرہ جو داخلی تنازعات میں مبتلا ہو، وہ اپنی توانائی تخریب میں ضائع کرتا ہے، جب کہ ہم آہنگ معاشرے تخلیقی صلاحیت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے ویژن 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکمت عملی جامع اور مساوی ترقی کو فروغ دیتی ہے جو انصاف اور رواداری پر مبنی ہو۔

 

پروفیسر احسن اقبال نے حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“لوگوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا عبادات سے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ ہم آہنگی کو فروغ دے کر معاشرتی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔”
انہوں نے اس حدیث کے تناظر میں موجودہ دور کی تفریق اور اختلافات کے خاتمے کے لیے اس تعلیمات کی افادیت کو اجاگر کیا۔

 

پروفیسر احسن اقبال نے 2018 میں اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے نفرت انگیز تقاریر اور تعصبات کے خطرناک نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تقسیم پیدا کرنے والے بیانیے نہ صرف افراد بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بھی مہلک ہیں۔

 

انہوں نے حکومت کے پیغامِ پاکستان اقدام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانیہ 1,800 سے زائد علمائے کرام کی توثیق کے ساتھ انتہا پسندی، دہشت گردی اور مذہب کے غلط استعمال کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی اور اعتدال پسندی کو فروغ دیتا ہے۔

 

اپنے خطاب کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ امن و ہم آہنگی کا فروغ ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم آہنگ معاشرے ہی مضبوط اداروں کی تشکیل، معاشرتی انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری کا ضامن بن سکتے ہیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button