
لاہور(ٹی این آئی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) سے متعلق ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اتھارٹی کے قیام، مقاصد اور آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ "پیرا” کو رواں سال 30 ستمبر تک صوبہ بھر میں مکمل طور پر فنکشنل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی مرحلے میں مئی کے مہینے میں لاہور ڈویژن میں پیرا کو فعال کر دیا جائے گا، جبکہ 14 اگست تک تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بھی اتھارٹی کے دفاتر کام شروع کر دیں گے۔
پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت صوبہ بھر میں انفورسمنٹ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے جو تجاوزات کے خاتمے، پرائس کنٹرول، اور دیگر انتظامی و ریگولیٹری امور کی انجام دہی کو یقینی بنائیں گے۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ "پیرا” کے 519 انفورسمنٹ افسران اور دیگر عملے کی ابتدائی تربیت مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ اتھارٹی کے زیر انتظام ایک باقاعدہ ٹریننگ ونگ قائم کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں عملے کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل پیرا نے اجلاس کے شرکاء کو سٹاف کی ورکنگ، دفاتر کے قیام اور آئندہ کے اہداف سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے "پیرا” کے حوالے سے پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتھارٹی صوبے میں مؤثر گورننس اور قانون کی عملداری کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ اہداف کو بروقت اور مکمل شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔