اہم خبریںجرم وسزا

سابق چیف انجینئر ہائی وے کی ناک تلے قومی خزانہ کے اربوں روپے ماتحت عملہ کی مبینہ ملی بھگت سے خورد برد کرنے کا انکشاف ،ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب رانا جبار نے تحقیقات کیلئے کمر کس لی؟

Editor Arshad mahmood Ghumman

 لاہور (ارشد محمود گھمن)محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں جولائی2021تا جون 2022 اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے20 ارب 80کروڑ35لاکھ روپے کی ادائیگی کے باوجود سڑکوں کی مرمت نہ ہوسکی جس کی تحقیقات کیلئے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب رانا جبار نے تحقیقات کیلئے ریکارڈ طلب کرلیا یہ امر قابل ذکرہے سابق چیف انجینئر ہائی وے نارتھ وسیم طارق سمیت 4 ایس ای اور 19 ایگزیکٹیو انجینئرز کو سڑکوں کی مینٹیننس کے لئے سالانہ فنڈز جاری کئے گئے جن کے بقاعدہ طور پر ٹینڈرز کی الاٹمنٹ کر کے ٹھیکداروں کو ورک آرڈر بھی جاری کر دیئے گئے اور ان افسران نے مبینہ طور پر ٹھیکداروں کو ادائیگیاں بھی کر ڈی ہیں مگر آج تک سیالکوٹ وزیر آباد روڈ،سیالکوٹ ایمن آباد روڈز،سیالکوٹ پسرور روڈز،گوجرانوالہ تا حافظ آباد روڈز،،گجرات تا کوٹلہ روڈز،میانوالی سمیت دیگر اضلاع کے روڈز شامل ہیں جن افسران کو فنڈز جاری کئے گئے ان میں4 ایس ای رائے نواز جس کے پاس گوجرانوالہ ڈویژن 1 اور ٹو سر کل کا چارج تھا جن کے ماتحت 12 ایگزیکٹو انجینئر ہیں، ایس ای راولپنڈی1 نوید احمد بھٹی جن کے ماتحت 4ایگزیکٹیو انجینئرز، ایس ای 2 راولپنڈی طاہر محمود انجم 3 ایگزیکٹیو انجینئرز ہیں کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے گئے جو کہ تمام افسران نے ماتحت عملہ اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ کے اربوں روپے کی بندر بانٹ تو کر لی گئی مگر تا حال ان روڈز کی تعمیر و مرمت نہ ہوسکی ۔اس ضمن میں فرح خان کی مبینہ ملی بھگت سے ایوان وزیر اعلیٰ سے کرپٹ افسران کی تعیناتیوں کے سرکلر جاری کئے جانے کے انکشافات ہوئے ہیں علاوہ ازیں حکومت پنجاب نے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کے حلقوں میں یکم جولائی 2020تا یکم جولائی 2021 کیلئے ایک کھرب روپے جبکہ کے  یکم جولائی تا 30 جون 2022 کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے تقریبا 140ارب فنڈز جاری کئے جو سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حلقہ انتخاب میانوالی سمیت دیگر حلقوں میں استعمال ہونے تھے مگر اس وقت کے چیف انجینئر ہائی وے نارتھ وسیم طارق نے ایوان وزیراعلیٰ سے اپنے قریب دوست کی سفارش سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں من پسند عہدوں پر ایگزیکٹیو انجینئر کی تعیناتی کروا لی جن میں ایس ای گوجرانوالہ رائے نواز،اور ایگزیکٹیو انجینئرسیالکوٹ دلشاد احمد مبینہ طور پر سر فہرست ہیں۔ جن کومبینہ طور پرسابق وزیر اعظم عمران خاں کی خاتون اول کی قریبی سہیلی فرح خاں کی سفارش پر  ایوان وزیراعلیٰ کے سرکلرجاری کر کیٹرانسفر پوسٹنگ کی جاتی تھی   مذکورہ افسران نے تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں من پسند عہدوں پر فائز رہے  ذرائع کے مطابق ان کرپٹ افسران کی کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات کے لئے ایک شہری کی درخواست پر ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب رانا جبار نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کرکے اس میں ذمہ داران افسران کے تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے مذکورہ سابق چیف انجینئر، ایس ای رائے نواز اور ایگزیکٹیو انجینئر کی جولائی 2019 تا جون 2020 تک پہلے ہی اینٹی کرپشن میں 22 ارب روپے کی بے ضابطگیاں اور بوگس ادائیگیوں کے حوالے سے 2انکوائریاں چل رہی ہیں اس حوالے سے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو مجاہد شیر دل کا کہنا ہے کہ کرپشن میں ملوث ذمہ دار افسران کے خلاف محکمہ قانونی کارروائی کرے گا،تاہم ڈی جی رانا جبار کا کہنا ہے کہ ؎ ذمہ دران افسران سے قومی خزانہ کی پائی پائی کا حساب لیا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button