اہم خبریںفیچر کالمز

پنجاب کا بحران اور آصف زرداری کا مشن؟

Chief executive, Arshad mahmood Ghumman

حقیقت/تحریر:ارشدمحمود گھمن

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی دونوں الجھے ہوئے ریشم میں اپنے ہاتھ پھنسا بیٹھے ہیں۔دونوں کو ہی سمجھ نہیں آرہی کہ کس دھاگے کو کس سے جدا کریں،جدا کریں بھی یا نہیں،یا پھر دھاگہ ہی توڑ ڈالیں۔پنجاب کی صورتحال دن بہ دن بدل رہی ہے اور جہانبانی و جہانگیری کے معاملات سمجھنے اور سلجھانے والے بھی حیرت وہراساں ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔اب پرویز الہی کھل کر کہہ چکے ہیں کہ وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لیں گے۔ظاہر وباہر ہے ان کے پاس عددی نمبر پورے ہوتے تو وہ اعتماد کا ووٹ ضرور لیتے۔انہیں شبہے کی حد تک یقین ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں گے اور یوں تاریخ میں ان کا نام کجلا جائے گا۔دوسری جانب آئینی ماہرین نے اپنا منتر پھونکا ہے اور وہ عمران خان کی سمجھ میں سما گیا ہے کہ چلو پرویز الہی اعتماد کا ووٹ نہ لیں کیونکہ اس طرح وہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کو مات دینے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ ان کی بات نہیں مانی گئی۔

 

پنجاب کی آئینی صورتحال کے ضمن میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا آئین اور قانون گورنر کو مکمل اختیار دیتا ہے کہ وہ اعتماد کے ووٹ کا کہے ،صدر اورگورنر اس معاملے میں کسی ایڈوائس کے پابند نہیں، یہ اختیار مکمل طور پر قومی اسمبلی میں صدر اور صوبائی اسمبلی میں گورنر کے پاس ہے، گورنر نے اپنا آئینی اختیار استعمال کیا، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اکثریت میں ہیں، پھر بھاگ کیوں گئے؟ پنجاب حکومت ووٹ کے ڈر سے بھاگ کر عدالت چلی گئی، اگر186ووٹ پرویز الہی لیتے ہیں تو وہ آئینی وزیر اعلی ہوں گے لیکن ابھی وہ عدالتی وزیر اعلی ہیں، ہم عدالتی فیصلے کو چیلنچ کرنا چاہتے تھے لیکن مشورہ آیا کہ11جنوری تک انتظار کیا جائے ،یہ صرف45منٹ کا کیس ہے اگر اس پر فیصلہ صادر کرنا ہو۔لیکن مصیبت اور مخمصہ یہ ہے کہ پرویز الہی یا عمران خان وفاقی وزیر قانون کی ان باتوں کو کیوں کر مانیں گے۔ان کے نزدیک تو آئین و قانون وہی ہے جو ان کی منشا اور مرضی کی تاویل اور تعبیر رکھتا ہو۔

 

پنجاب کے اس سیاسی اور حکومتی منظر نامے میں ایک ایسی شخصیت بھی ہے جو انتہائی گہری اور عمیق نگاہوں سے صورتحال کا مشاہدہ کررہی ہے۔جی ہاں ! آپ درست سمجھے وہ آصف علی زرداری ہیں جو مفاہمت کی سیاست کے نقیب کہے اور سمجھے جاتے ہیں۔آصف زرداری بادشاہ گر ہیں،وہ جسے چاہیں نہال کریں اور جسے چاہیں پامال کریں۔نواز شریف پرویز الہی پر کب مانتے تھے مگر زرداری کی جادوگری نے یہ معجزہ بھی کر دکھایا تھا کہ وہ راضی ہو گئے تھے۔باخبر ذرائع کے مطابق اس وقت تمام فریقین آصف زرداری سے رابطے میں ہیں اور پنجاب کی وزارت اعلی کا صحیح معنوں میں فیصلہ بھی وہی کریں گے۔زرداری پنجاب میں اپنے سیاسی قدم جما چکے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے اندرون خانہ وہ پرویز الہی پر پی ڈی ایم کو منالیں۔چودھری شجاعت حسین کسی کی بات ٹال سکتے ہیں مگر مجال ہے وہ آصف علی زرداری کی ٹالیں۔یوں اقتدار کی تکون اس وقت زرداری کے ہاتھوں میں ہے اور اس سے پیپلز پارٹی کو بھی سیاسی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

 

گئے وقتوں میں پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنا سیاسی اثرور رسوخ رکھتی تھی لیکن پھر آمریت کی منہ زور ہوائیں چلیں اور پیپلز پارٹی کا پنجاب میں حصہ کم ہوتا گیا ۔اب آصف زرداری پنجاب میں پی پی کو مضبوط کرنے ،تنظیم سازی کرنے اور منتخب ہونے والے سیاسی نمائندوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے مشن پر ہیں۔ایک قریبی ذریعے نے یہ بھی بتایا ہے کہ مستقبل میں سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور اورجہانگیر ترین پی پی میں شامل ہوں گے اور یوں جنوبی پنجاب میں اس پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہو جائے گی۔بالغ سیاسی تجزیہ نگار اور مبصر اس بات پر متفق ہیں کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں پیپلز پارٹی نے پایا تو بہت کچھ ہے مگر گنوایا کچھ بھی نہیں۔ایک تو پیپلز پارٹی کے تن مردہ میں جان پھونکی جا چکی ہے اور دوسرا وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا فیصلہ کرنے کی پو زیشن میں ہے اور تیسرا آنے والے عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی اپنی اچھی خاصی نشستیں نکالنے میں کامیاب ہوتی نظر آتی ہے۔یہ آصف زرداری کا فیضان ہے کہ پنجاب کے اس بحران میں انہوں نے اپنے لئے نئے راستے نکالے اور تراشے ہیں۔

 

دوسری جانب پرویز الٰہی ابھی بڑے پر امید ہیں،ان کے لب ولہجہ اور بدن بولی سے بالکل پتہ نہیں لگتا کہ وہ سیاسی صورتحال سے پریشان ہوں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہماری نیت نیک اور سمت درست ہے ، پی ڈی ایم والوں کی نیت میں بھی کھوٹ ہے اور سیاست میں بھی ، یہ اپنی نام نہاد سیاست بچانے کیلئے ملک سے کھلواڑ کر رہے ہیں ، پی ڈی ایم کی ساری جماعتیں الٹی بھی ہو جائیں تو بھی ہمارامقابلہ نہیں کر سکتیں ، چند ماہ میں پنجاب میں جتنے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اس کی مثال گزشتہ 10برس میں نہیں ملتی ۔پرویز الہی کا اعتماد دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ درون خانہ اور پردے کے پیچھے پی ڈی ایم سے معاملات سیٹ کر چکے ہیں ،اسی لیے انہیں کوئی پریشانی نہیں کہ کوئی زلزلہ یا بھونچال بھی آسکتا ہے۔لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان نے بھی پرویز الٰہی کو واضح پیغام پہنچا دیا ہے کہ اعتماد کا ووٹ لے کر پنجاب اسمبلی کی تحلیل ضروری ہو گئی ہے نہیں تو پی ٹی آئی صوبائی اراکین اسمبلی فوری طور پر مستعفی ہو جائیں گے البتہ اب یہ معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں جائے گا اور وہاں پر منصف ہی اسے دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button