
پنجاب کی نگران حکومت کی باتیں اور گھاتیں
Chief executive, Arshad mahmood Ghumman
حقیقت /
تحریر:ارشدمحمود گھمن
پنجاب اسمبلی تو خیر ازخود تحلیل ہو گئی لیکن پختونخواسمبلی کوتوڑنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟یہ وہ سوال ہے جس پر تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی سیاست اور آگے کی چال کا دارو مدار ہے۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد سمری پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا، یہ ایک اچھا اور مستحسن اقدام ہے کہ وہ تاریخ میں اس لحاظ سے یا د رکھے جائیں گے کہ انہوں نے اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس پر دستخط ثبت نہیں کئے۔گورنر بلیغ الرحمان کے دستخط نہ کرنے کے باوجود پنجاب اسمبلی ازخود ختم ہوگئی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو ارسال کی جس پر بلیغ الرحمان نے مقررہ وقت میں دستخط نہیں کیے۔آئین کے مطابق گورنر بلیغ الرحمان نے 48 گھنٹوں میں اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرنے تھے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں اسمبلی کو خود بہ خود تحلیل ہوجانا تھا۔گورنر بلیغ الرحمان نے کہا کہ میں نے اسمبلی تحلیل کے عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا، ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا کوئی اندیشہ نہیں، آئین اور قانون میں صراحت کے ساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔ گورنر پنجاب نے نگراں حکومت کے قیام کے لیے پرویز الہیٰ اور قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو خط لکھ کر نگران وزیراعلیٰ کے چناو¿کی ہدایت کر دی ہے۔
اب عملی صورتحال یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر تک بطور قائم مقام وزیراعلیٰ کام کرتے رہیں گے ۔ اٹھا رویں ترمیم میں نگران سیٹ اپ کے لئے بڑا واضح اور شفاف طریقہ کار طے کیا جا چکا ہے۔نگران وزیر اعظم ہو یا نگران وزیر اعلیٰ، اس کے لئے دستور میں تین فورم تجویز کئے گئے ہیں۔ پہلا اقدام یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نگراں حکومت کے قیام کےلئے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز سے مشاورت کریں گے۔ دونوں رہنماﺅں کو آئندہ تین روز میں باہمی مشاورت کے بعد نگراں وزیراعلی کا تقررکرنا ہے ، اگر دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا تو معاملہ 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔پارلیمانی کمیٹی دوسرا فورم ہے۔پارلیمانی کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے تین، تین ارکان شامل ہوں گے۔ پارلیمانی کمیٹی تین روز میں ان چھ ناموں میں سے کسی ایک کو اتفاق رائے سے نگراں وزیراعلیٰ نامزد کرے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کے عدم اتفاق کی صورت میں پھر دستور نے اختیا ر تیسرے فورم الیکشن کمیشن کو دیا ہے،آخری مرحلے میں نگراں وزیراعلیٰ کا تقرر الیکشن کمیشن پارلیمانی کمیٹی کے چھ ناموں میں سے کر ے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور لیگی قیادت نے بھی سر جوڑ لیے ہیں۔اگر عام انتخابات کی بجائے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے تین ماہ کے اندر الیکشن آجاتے ہےں تو پھر پی ڈی ایم حکومت کو الیکشن میں نقصان ہو سکتا ہے۔آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق حکومت کو پٹرول پر ٹیکس اور مہنگائی تو کرنی پڑے گی جس کا فائدہ براہ راست تحریک انصاف کو ہوگا اور نقصان موجودہ حکومت کو اٹھانا پڑے گا۔اس لیے حکومت کی کوشش ہوگی کہ آئینی آپشن کا استعمال کرکے کسی طرح نگران حکومت6ماہ تک قائم کردی جائے یا پھر عام انتخابات ہی کروا دیئے جائیں تاکہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا بوجھ نگراں حکومت کے ذمے ہو۔ذرائع کے مطابق حکومت تمام مسائل کے حل کے لئے پی ڈی ایم کے اجلاس میں کوئی فیصلہ کر سکتی ہے ۔اصل میں حکومت چاہتی ہے کہ الیکشن سے قبل کسی طرح عمران خان کی نااہلی ہو جائے، وہ عدالتی کاروائی کے ذریعے الیکشن کے عمل سے ہی باہر ہو جائے۔
نواز شریف کی وطن واپسی میں تاخیر ہوئی تو سیاسی طور پرمسلم لیگ ن کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق مطابق وزیراعظم 16جنوری کے بلائے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف اعتماد کا ووٹ حاصل کرکے 6 ماہ مزید نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ہمارے ذرائع کے مطابق، ایم کیوایم، کی بلیک میلنگ سے بھی شہبازشریف اورآصف زرداری کافی حد تک نالاں ہیں ۔ذرائع ن لیگ کے مطابق نواز شریف کی واپسی سے پارٹی کو کو ئی خاص فائدہ نہیں ملے گا، ن لیگی قیادت کے مطابق اگر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں نواز شریف کی واپسی میں تاخیر ہوتی ہے تو شاید ایک بار پھر ن لیگ کو پنجاب سے ہاتھ دھونا پڑے ۔اس وقت عمران خان نے اپنے پتوں کا استعمال کر کے حکومت کو کڑوے امتحان میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ادھر دوسری جانب تحریک انصاف کی کے پی پارلیمانی پارٹی کااجلاس طلب کر لیا گیا ہے، پختونخوا اسمبلی کی تحلیل میں چند دنوں کی تاخیرکی باتیں اورگھاتیں جاری ہیں۔عمران خان کو وزیر اعظم کو ہٹانے کی پڑی ہے اور شہباز شریف کو ملکی معیشت سدھارنے کی فکر کھا ئے جا رہی ہے۔ایسا لگتا ہے پاکستان کسی خطرناک اور خوفناک منطقے میں مدغم ہو چکا ہے ،اسی لئے ہر آن
یہا ں کھینچا تانی ،پھڈا بازی اور کشمکش جاری ہے۔ عمران خان نے اپنا درد دبانے کی بجائے کھل کر ظاہر کیا اور کہا ہم شہباز شریف کو پوری طرح ٹیسٹ کریں گے، ہم نے پنجاب اسمبلی ہی نہیں توڑی ،مرکز میں صرف اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا بلکہ اس کے علاوہ بھی پلان ہیں،اس نے ہمیں ٹیسٹ کیا، اب امتحان کی باری اس کی ہے، اب ہم شہباز شریف کو پوری طرح ٹیسٹ کریں گے۔ان کی یہ باتیں سن کر بے ساختہ شاعر کا مصرح یاد آتا ہے کہ ” درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا “۔