اہم خبریںپاکستانفیچر کالمز

فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے پر سزا کا مجوزہ بل!

Chief executive, Arshad mahmood Ghumman

‏حقیقت/تحریر:ارشد محمود گھمن)

فوج اور عدلیہ پر الزام تراشی اور بہتان طرازی کرنے والوں کی اب خیر نہیں۔ملک کے دو محترم اور معزز اداروں کےخلا ف منظم مہم چلانے والوں پر ٹوٹ گریں گی زنجیریں اور انہیں اب ہھتکڑیوں،جیلوں،مقدموں،کٹہروں ،مثلوں اور سزاﺅں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اب ہو نہیں سکتا کہ آپ گھر بیٹھے سیاسی مسخریاں کریں اور پھر مسکرا کو ہولے سے پتلی گلی سے نکل جائیں۔یہ بھی ممکن نہیں رہا کہ اداروں کے خلاف زہر اگلیں اور بعد میں مکر جائیں کہ ہاں ہاں میرا یہ تو مطلب نہیں تھا۔دراصل تحریک انصاف کی پوری جماعت اور خاص کر عمران خان نے مسلح افواج،اعلیٰ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے خلاف وہ وہ نازیبا،گھناﺅنے اور مکروہ الزام لگائے کہ بس توبہ بھلی۔اگر عمران خان کسی اور ملک میں ہوتے تو یقیناً آج جیل میں دن اور راتیں بسر کر رہے ہوتے۔موجودہ حکومت کی مفاہمت کی پالیسی ،نرم دلی اور آصف زرداری کی مشہور زمانہ مسکراہٹ نے عمران خان کو وہ دن دکھائے کہ وہ زمان پارک میں بنکر میں بیٹھ کر ملکی اداروں کے خلاف منظم مہم چلائیں اور عوام کو گمراہ کریں۔

ادھرگزشتہ روز وفاقی حکومت نے تعزیرات پاکستان اور کوڈ آف کریمنل پروسیجر میں ترمیم کرتے ہوئے فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے پر5 سال سزا کے لیے قانون کا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے۔وزارت قانون کی جانب سے تیار گیا یہ ڈرافٹ وزارت داخلہ کے ذریعے وزیراعظم کو پیش بھی کردیا گیا ہے۔ہمارے ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے مذکورہ بل کی منطوری کا بھی امکان ہے۔فوجداری ترمیمی ایکٹ 2023 کے عنواں سے اس بل میں تعزیرات پاکستان 1860 میں سیکشن 500 کے بعد 500 اے کی نئی سیکشن کی تجویز دی گئی ہے، جس کو ’ریاستی اداروں کو جان بوجھ کر بدنام کرنے اور تضحیک کا نشانہ بنانے‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس کے تحت مجرم کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا جائے گا اور الزام نا قابل ضمانت اور ناقابل مصالحت تصور کیا جائے گا اور اس کو صرف سیشن کورٹ میں چیلنج کیا جاسکے گا۔حکومتی مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ کسی بھی شخص کا ادراک کرنے یا کسی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرنے سے پہلے وفاقی حکومت سے لازمی طور پر منظوری لی جائے گی۔

اس قانونی مسودے کے تحت اب جو کوئی بھی عدلیہ، فوج یا ان کے کسی رکن کو بدنام کرے گا یا تضحیک کا نشانہ بنانے کی نیت سے بیان دے گا یا جعلی معلومات پھیلائے گا تو اس کو قید کی سزا کا مرتکب قرار دیا جائے گا،ملزم کا جرم ثابت ہونے پر 5 سال تک سزا یا جرمانے کے ساتھ سزا ہوسکتی ہے، 10 لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، جرمانہ اور قید دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ریاست کے مخصوص اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ تضحیک کا نشانہ بنایا جا رہا اور بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں، ان اداروں میں عدلیہ اور مسلح افواج شامل ہے۔کچھ لوگوں نے ذاتی مفادات کے لئے سائبر مہم شروع کررکھی ہے جس کا مقصد مخصوص اداروں اور ان کے عہدیداروں کے خلاف اشتعال دلانا اور نفرت پھیلانا ہے۔اسی وجہ سے پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کو یہ اقدام کرنا پڑا۔اور تو اور آزادی اظہار رائے کے باب میں شاہد خاقان عباسی جیسے سنجیدہ شخص نے بھی اس قانون کی حمایت کی ہے اور اسے درست اور جائز قرار دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کسی کو بدنام کرنے سے روکنے کے لیے کوئی حد تو ہونی چاہئے، دنیا میں ہر جگہ ہتک عزت کا قانون ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی اٹھ کر جو چاہے بول دے،قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل ڈرافٹ کابینہ کو بھیج دیا جائے گا، اب یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ پھر وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کی مرضی ہے اس بل کی منظوری دے یا نہ دے۔خیر یہ تو رہی بات شاہد خاقان عباسی کی لیکن یہ ایک مستند اور مسلمہ اصول ہے کہ ملکی اداروں کو نجی مفاد کے لئے خواہ مخواہ اور فضول و مجہول طریقے سے بدنام نہیں کیا جا سکتا۔جب سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے آئینی عمل کے ذریعے حکومت سے نکالا گیا ہے،تب سے اب تک اس سیاسی جماعت کی جانب سے فوج کے خلاف ایک زہریلی اور پرشور پروپیگنڈا مہم چلائی گئی ہے جو ذ ی شعور اور سجنیدہ و فہمیدہ لوگوں نے پسند نہیں کی۔ اسی تناظر میں یہ مجوزہ قانون بنانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

فوج اور عدلیہ سے پاکستانی عوام کی محبت کسی شک و شبہ سے بالا رہی ہے لیکن کسی بل کا مسودہ تیار ہو نا اور اس کا منظور ہونا یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مجوزہ مسودے کو عوامی نمائندے کس طرح ایوان زیریں میں پیش کرتے ہیں اور آگے چل کر ایوان بالا میں بھی اس پر تفصیلی اور سیر حاصل بحث ہونی ہے۔ابھی یہ محض تجویز ہے اور حکام سوچ بچار کر کے یا پھر سینٹ میں اس پر مزید گفت وشنید کر کے اس میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔یہ بات مسعود و محمود ہی کہی جائے گی کہ کم ازکم اس حکومت نے ایک اہم مسئلہ پر ایک قانونی مسودہ تو تیار کیا۔ایک حساس باب میں اپنی تجویز تو پیش کی،ایک اہم معاملے پر دونوں ایوانوں میں بحث تو کرائی ۔اگر یہ مسودہ قانون بل کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پھر اداروں پر الم غلم اور غلط سلط طریقے سے تنقید بھی رک جائے گی۔پھر یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی سیاسی مسخرہ اٹھے اور اپنا ناٹک پیش کرنے لگے یا کوئی مداری بھرے مجمع میں کوئی سوانگ رچائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button