اہم خبریںپاکستانجرم وسزا

سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی نے لاہور ماسٹر پلان میں جعلی کاغذات کا اضافہ کر کےزرعی زمین کو رہائشی اور کمرشل اراضی بنانے کی کوشش کر کے 10 سے12 ارب کا مالی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی،اینٹی کرپشن 4 میگا کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے،ڈی جی سہیل ظفر چٹھہ کی پریس کانفرنس

C.E.O.Arshad Mahmood Ghumman

لاہور (ٹی این آئی)ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ نے فرید کوٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی کرپشن کے چار کیسز پر تحقیقات کر رہاہے اور ان کی پریس کانفرنس کا مقصد میڈیا کے ذریعے عوام کو چوہدری پرویز الٰہی کی کرپشن کے کیسز بارے آگاہی دینا ہے۔ سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے دارلہندسہ/کنسلٹنٹ کی طرف سے جمع کروائے گئے

 

لاہور ماسٹر پلان میں جعلسازی کی اورکنسلٹنٹ کے ترتیب دیے گئے ماسٹر پلان میں جعلی کاغذات کا اضافہ کیا اور زرعی زمین کو رہائشی اور کمرشل اراضی بنانے کی کوشش کر کے 10 سے12 ارب کا مالی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے عہدے اور دفتر کا ناجائز استعمال کیا۔ ڈائریکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ نے مزید کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں میرٹ سے ہٹ کرغیر قانونی تعیناتیاں کیں

 

اور مختلف گریڈز کی 300 سے زائد اسامیوں پر من پسند افراد کی غیر قانونی تعیناتیاں کیں۔ انھوں نے کہا کہ من پسند افراد کو نوازنے کے لیے ٹیسٹنگ سروس کے مرتب شدہ رزلٹ کو تبدیل کیا گیا۔
اور رزلٹ میں ردوبدل کر کے میرٹ پر آئے امیدواروں کی حق تلفی کی گئی۔ سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کے دور میں عہدے اور طاقت کا بدترین اور ناجائز استعمال ہوا اور مالی مفادات کیلئے قواعد و ضوابط کو ہمیشہ ہوا میں اڑا دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ مالی مفادات کے لیے

 

چوہدری پرویز الٰہی نےرحیم یار خان شوگر مل کی کرشنگ کپیسٹی میں 30 ہزار میٹرک ٹن کا اضافہ کیا اور کرشنگ کپیسٹی 12 ہزار میٹرک ٹن سے یکمشت 42 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی جو خلاف قانون اور طے شدہ اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔

 

کیونکہ انھوں نے ایک شوگر مل کی کپیسٹی کو عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دو کے برابر کردیا ۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعلی نے پرنسپل سیکرٹری ٹو چیف منسٹر کے عہدے پر ایک غیر سرکاری ملازم کی تعیناتی کی اورڈیپوٹیشن کی آڑ میں زاتی ملازم محمد خان بھٹی کو صوبہ کے سب سے اہم عہدے پر فائز کر دیا۔اس طرح

 

ایک ایسا شخص جس کی تعلیمی قابلیت صرف ایف اے ہے اور جو پنجاب اسمبلی کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا اسکو پورے صوبے کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب بھر میں کرپٹ اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کر رہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button