
سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف مشکل میں پڑ گئ تمام امیدواروں نے سینیٹ انتخابات سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا
Editor arshad mahmood ghumman
لاھور(ٹی این ٓٓآئی ) سینٹ انتخابات میں تحریک انصاف مشکل میں پڑ گئی، پہلی ترجیحی فہرست سے نکالنے والے امید وار قیادت کے سامنے ڈٹ گئے، تمام امیدواروں نے سینیٹ انتخابات سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے کورننگ امیدواروں کا اجلاس ہوا جس میں جنرل نشست کے امیدوار عرفان سلیم، وقاص اورکزئی اور خرم ذیشان شریک ہوئے ۔ اجلاس میں ٹیکنو کریٹ کی نشست پر امیدوار سابق آئی جی سید ارشاد حسین اور خواتین کی نشست کی امیدوار عائشہ بانو بھی شریک ہوئی۔اجلاس میں تمام امیدواروں نے سینیٹ انتخابات سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔اس کےعلاوہ سینیٹ کا ٹکٹ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے ناراض رہنماؤں کی پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سلمان اکرم راجہ سے ملاقات ہوئی جس میں ، عرفان سلیم ، خرم ذیشان اور عائشہ بانو نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
دوسری جانب ناراض ارکان کو منانے کے لیے مرکزی قیادت بھی سرگرم ہوگئی۔ناراض رہنماؤں کو منانے کے لئے 3 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی جس میں میں بیرسٹر گوہر ، عمر ایوب اور اسد قیصر شامل ہیں۔سلمان اکرم راجہ آج ناراض امیدواروں کے ساتھ وزیراعلیٰ خیبرپپختونخوا سے ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بلامقابلہ سینیٹ انتخاب پر معاہدہ ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے اس معاہدے پر اتفاق رائے کا ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں 5/6 فارمولے پر اتفاق پایا گیا ہے۔ فارمولے کے تحت تحریک انصاف کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملیں گی۔ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے جن میں جنرل 7، خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو دو نشستیں شامل ہیں۔