
لاہور(ٹی این آئی)محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ لاہور میں ایگزیکٹو انجینئرز کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری ملازمین کی جانب سے کنسٹرکشن کمپنیاں بناکر قومی خزانے کے 3ارب روپے خورد برکرنے کاانکشاف ہواہے ،واضح رہے کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے لاز کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم سمیت ان کے عزیز واقارب ایسی کمپنیاں نہیں بناسکتے ۔تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ محکمہ کمیونی کیشن ورکس ڈیپارٹمنٹ چیف انجینئرسنٹرل زون لاہور اورچیف انجینئرایم اینڈ آر بلڈنگ ڈویژن لاہور کی تمام بلڈنگزڈویژن میں مذکورہ ایگزیکٹو انجینئرز نے اپنے ماتحت عملہ کے ساتھ ساز باز کرکے ان کے عزیز واقارب کے نام مختلف ناموں سے کنسٹرکشن کمپنیوں کے لائسنس جاری کررکھے ہیں جن میں بلڈنگ سیکنڈ ڈویژن لاہور کے ایس ڈی او فرخ نے اپنے بیٹے طلحہ کے نام حفیظ بلڈرز بنا رکھی ہے جس کے ذریعے بوگس کوٹیشنز کی مد میں قومی خزانے سے کروڑوں روپے نکلواکر آپس میں بند ربانٹ کرلئے ہیں ،ذرائع نے مزید بتایا کہ اسی طرح ایم اینڈآر بلڈنگز افسران نے بھی اپنی عزیزو اقارب کے نام فرمیں بنا کر قومی خزانہ سے مینٹیننس کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کرلئے ہیں ،ذرائع نے بتایا کہ حکومت پنجاب کے تمام سرکاری دفاترز ،سرکاری بلڈنگز جن میں ہسپتال ،گرلز کالجز،سکولز،محکمہ جنگلات ،محکمہ زراعت ، محکمہ ریونیو وغیرہ کی عمارتوں کی تزئین وآرائش کے لئے جولائی 2018ءتاجون 2021ءتک تقریباً 3ارب روپے کے فنڈزجاری کئے گئے جن کو مذکورہ ایگزیکٹو انجینئرز نے بوگس کوٹیشنز اور ان ملازمین کی فرموں کو ٹینڈرز الاٹ کرکے کروڑوں روپے کی بوگس انٹریاں ڈال کر رقم خورد برد کرلی ہے،ذرائع نے مزید بتایا کہ مذکورہ افسران محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایڈیشنل سیکرٹریز ٹیکنکل کو 30فیصد ایڈوانس کمشن دے کر فنڈز ریلیز کرواکر بعدازاں آپس میں بندر بانٹ کرلیتے ہیں، اس حوالے سے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کا کہناہے کہ ذمہ داران کے خلاف غیر قانونی طریقہ سے فرمیں رجسٹرڈ کروانے پرانکوائری کرکے بھرپور کارروائی کی جائے گی
