
لاہور( ٹی این آئی) ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کے عوام دوست اقدامات پر مشتمل تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے نیب لاہور نے موجودہ قیادت کے 4 سالہ دور (2017 سے تاحال) میں عوام کی دادرسی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر مبنی ریکارڈ ساز کارکردگی کی تفصیلات جاری کردیں۔نیب لاہور کے سی وی سیل کی مجموعی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نیب لاہور کمپلینٹ سیل کو گزشتہ 4 سالوں میں مجموعی طور پر 43120 شکایات موصول ہوئیں ہیں جن میں سے 42249 شکایات کو انتہائی برق رفتاری سے مکمل کرتے ہوئے تاریخ رقم کی گئی اگرچہ ماضی کے 17 سالہ دور (1999 تا 2016) میں نیب لاہور کو کل 45314 شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے کل 44495 شکایات کو ان 17 سالوں کے دوران مکمل کیا گیا تھا۔علاوہ ازیں گزشتہ 4 سالوں (اگست 2017 سے تاحال) کے دوران نیب لاہور کمپلینٹ سیل کو ملنے والی شکایات میں سالانہ 304 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ فی الوقت نیب لاہور CV سیل 1690 شکایات پر اپنے آئینی و قانونی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔کمپلینٹ سیل کے سالانہ تقابلی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ مزکورہ سیل کو 2017 میں شہزاد سلیم کی قیادت سنبھالنے کے بعد کل 5964 شکایات موصول ہوئیں جبکہ اس دوران بیک لاگ عبور کرتے ہوئے کمپلینٹ سیل نےکل 6373 کو مکمل کر لیا۔اسی طرح 2018 میں نیب لاہور کے کمپلینٹ سیل کو کل 10197 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 9305 کو مکمل کیا گیا۔2019 میں کسی بھی ایک سال کے دوران سب سے زیادہ 14003 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 10648 کو مکمل کرلیا گیا۔گزشتہ سال 2020 میں نیب لاہور کو موصول ہونیوالی شکایات کی کل تعداد 5016 تھی تاہم اس دوران بھی بیک لاگ کم کرتے ہوئے کل 9485 شکایات کو کامیابی کیساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔رواں سال 2021 میں نیب لاہور کو موصول ہونیوالی شکایات کے تخمینہ کیمطابق ابتک کل 7940 متاثرین نے دادرسی کیلئے کمپلینٹ سیل کا رخ کیا جبکہ ان میں سے 6348 متاثرین کی شکایات پر کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے
نیب لاہور کمپلینٹ سیل کیجانب سے گزشتہ 4 سالوں میں 70 فیصد سالانہ اضافہ کیساتھ کرپشن کی کل 1062 شکایات پر ویری فکیشن کے آغاز کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جبکہ ان 1062 سی ویز میں سے کل 1038 شکایات پر تحقیقات (CVs) کو مکمل بھی کر لیا گیا ہے اسکے بالمقابل ماضی کے 17 سالہ دور میں کل 2648 شکایات پر تحقیقات کی منظوری دی جا سکی تھی جن میں سے 2540 کو پراسیس کیا گیا
موجودہ قیادت کے زیر انتظام سال 2017 میں کل 257 سی ویز کی منظوری فراہم کی گئی جبکہ اس دوران کل261 کو مکمل کیا گیا اسی طرح 2018 کے دوران 326 کمپلینٹ ویری فکیشن کی منظوری دی گئی جن میں سے 280 کو کامیابی کیساتھ مکمل بھی کر لیا گیا۔بعد ازاں 2019 میں کل 243 کمپلینٹ ویری فکیشن کی منظوری دی گئی جبکہ کل 257 کو پایہ تکمیل تک پہنچادیا گیا سال 2020 میں کل 151 سی ویز پر کارروائی کا آغاز کیا گیا تاہم بیک لاگ کو عبور کرتے ہوئے کل 169 کو مکمل کیا گیا۔ لرواں سال 2021 کے دوران 85 کمپلینٹ ویری فیکیشنز کی قانون کیمطابق منظوری دی جا چکی ہے جبکہ تاحال 71 سی ویز کو مکمل بھی کر لیا گیا ہے۔ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں دیگر ونگز کی مانند کمپلینٹ سیل کی سالانہ مجموعی کارکردگی میں بھی روز افزوں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔نیب لاہور کیجانب سے کمپلینٹ ویری فکیشنز کو مکمل کرتے ہوئے شکایات کو انکوائری کے مراحل میں داخل کرنے میں برق رفتاری کا مظاہرہ نظر آیا ہے۔نیب لاہور نے 2017 میں 68 سی ویز پر انکوائریاں شروع کیں جبکہ 2018 میں 205 اور 2019 میں 106 انکوائریوں کا آغاز ہوا۔اسی طرح 2020 میں کل 53 نئی انکوائریاں منظور کی گئیں جبکہ 2021 کے دوران تاحال 24 انکوائریوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کی لازوال قیادت اور ڈی جی نیب لاہور کی سنجیدہ کوششوں کے سبب نیب لاہور کی کارکردگی میں ماضی کی نسبت سینکڑوں گنا اضافہ ریکارڈ کیا۔ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے 4 سالہ دور میں نیب لاہور کیجانب سے ہائوسنگ سیکٹر کے مقدمات، اختیارات کے ناجائز استعمال و بدعنوانی کے دیگر مقدمات میں متعدد اہم پیش رفت منظر عام پر آئیں۔علاوہ ازیں ڈی جی نیب لاہور کی انتھک محنت اور کوششوں کے باعث نیب لاہور بیورو اپنے متاثر کن اقدامات سے نیب کی مجموعی کارکردگی کو مزید مستحکم کرنے کا سبب بنا ہے۔
