
ویب ڈیسک
اسلام آباد:بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنے، عدالت کے قیام کو غیر قانونی قرار دینے اور معاہدہ کی معطلی کو برقرار رکھنے کا اعلان بین الاقوامی ذمہ داریوں سے انحراف ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے گزشتہ برس کے ضمنی ایوارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت اس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے کبھی بھی ثالثی عدالت، اس کے فیصلوں یا ایورڈز کو تسلیم نہیں کیا
بھارت سندھ طاس معاہدہ کو معطل رکھنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ فیصلے کا نوٹس لے کیونکہ معاہدہ کی معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اس حوالے سے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے ایک خط اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے صدر کے حوالے کیا تھا۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا۔ سندھ طاس معاہدہ کے سابق ایڈیشنل کمشنر شیراز میمن نے عالمی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی بنیادی ذمہ داریوں میں کم از کم سال میں ایک مرتبہ دونوں ممالک کے واٹر کمشنرز کا اجلاس ہونا، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنا اور دونوں اطراف دریاؤں پر جاری پراجیکٹس پر دوسرے ممالک کی معائنہ ٹیموں کے دورے شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے انڈس واٹر کمشنرز عموماً مئی کے مہینے میں یہ اجلاس کرتے ہیں اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس کی سالانہ رپورٹ یکم جون کو پیش کی جاتی ہے۔
شیراز میمن کے مطابق عملدرآمد کی معطلی کا مطلب یہ ہے یہ اجلاس، معائنہ دورے یا دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی ڈیٹا شیئرنگ نہیں ہو گی۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے یکطرفہ اقدام اور اس کے اثرات کے بارے میں سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے برطانوی نشریاتی ادارہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک فریق کسی بھی معاہدہ سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو یہ اس کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ ایک سال پر نظر دوڑائی جائے تو اس سے پاکستان کو زیادہ نقصان تو نہیں ہوا تاہم آگے چل کر اس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک فریق دہائیوں پرانے معاہدے کو معطل رکھتا ہے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرے فریق کی تشویش تو بڑھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر سلامتی کونسل سے رُجوع کیا ہے۔
جماعت علی شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ کوئی رعایت نہیں تھی بلکہ اس میں ہم نے تین دریا بھارت کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہر معاہدہ کا ایک تقدس ہوتا ہے اور وہ بحال رہنا چاہیے، ہمارے لیے سب سے زیادہ سندھ طاس معاہدہ کی ساکھ ہے۔ جماعت علی شاہ نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ بھارت میں کوئی صلاحیت یا اتنی سکت ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روک سکے لیکن مستقبل میں اگر اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اس کے اثرات پاکستان پر لازمی پڑیں گے۔جماعت علی شاہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں بھارت معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پانی میں رکاوٹ ڈالنے والے منصوبے بناتا ہے تو پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ میں فرق پڑے گا۔یہ ہو سکتا ہے کہ جب ہمیں پانی چاہیے ہو تو نہ ملے اور جب پانی کی طلب کم ہو تو ضرورت سے زیادہ پانی دستیاب ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر آج بھارت معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی منصوبہ شروع کرتا ہے تو اگلے پانچ سے 10 سال کے دوران پاکستان کو اس کا نقصان ہو سکتا ہے۔
جماعت علی شاہ نے مزید کہا کہ موسم سرما اور اس سے قبل گذشتہ برس آنے والے سیلاب کے دوران بھی بھارت نے پانی کے اخراج میں ردوبدل کی کوشش کی تھی لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی سے پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچ رہا ہے تو فی الحال ایسا نہیں۔پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط کے حوالہ سے جماعت علی شاہ نے کہا کہ یہ پاکستان کا علامتی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر عالمی عدالت انصاف سے رُجوع کر سکتا ہے اور اگر عالمی عدالت انصاف پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو پھر پاکستان اقوام متحدہ کے پاس جائے کہ بھارت فیصلہ نہیں مان رہا۔ اس پر پابندیاں لگائی جائیں۔جماعت علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ فورم بھی ہے کہ وہ یورپی کمیشن اور امریکہ کو بھی یہ باور کرائے کہ بھارت ایک عالمی معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس پر ایکشن لیا جائے۔ سابق رُکن قومی اسمبلی اور آبی اُمور کے ماہر محسن لغاری نے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے بھارتی اقدامات کے حوالہ سے کہا کہ اگر پاکستان کی جانب بہنے والے دریائے چناب کی بات کریں تو بھارت شرارت سے اپنے ڈیم اچانک بھرنا شروع کر دیتا ہے جس سے پاکستان کی جانب پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ا
سی طرح بھارت اچانک ان ذخیروں کو خالی کر دیتا ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ پانی پاکستان کی جانب آ نے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ محسن لغاری نے کہا کہ پاکستان کا زرعی نظام ’وارہ بندی‘ پر مبنی ہے یعنی کسان کو اس کی باری پر پانی ملتا ہے اور اگر دریا یا نہر میں پانی نہیں تو پھر کسان کو اس کی باری پر پانی نہیں ملتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے ذریعے دونوں ممالک کے حکام پانی کے بہاؤ سے متعلق معاملات پر رابطے میں رہتے تھے لیکن ایک سال سے یہ رابطہ نہ ہونے سے دونوں ممالک ان اعداد و شمار کو شیئر نہیں کر رہے۔محسن لغاری نے کہا کہ فصل کے لیے وقت بہت اہم ہوتا ہے اور اگر مقررہ وقت پر پانی نہ ملے تو نقصان تو کسان کو ہی ہوتا ہے۔محسن لغاری نے کہا کہ گذشتہ سال سیلاب کے دوران بھارت اور پاکستان نے انڈس واٹرز کمشنرز کی سطح پر پانی کے بہاؤ کے اعداد و شمار شیئر نہیں کیے تھے اور بعد ازاں رضاکارانہ طور پر سفارتی چینلز سے پاکستان کو اس حوالہ سے بتایا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق آگاہ نہیں کیا جاتا تو اس سے منصوبہ بندی پر فرق پڑ سکتا ہے کیونکہ کبھی ضرورت سے کم پانی ملے گا تو کبھی بہت زیادہ پانی سیلاب کے خدشات بڑھا دے گا۔
