
لاہور(ٹی این آئی)

چیف انجینئر سینٹرل زون لاہورPAK PWDکی ناک تلے قومی خزانے کو مبینہ اربوں کا ٹیکہ،ایگزیکٹو انجینئرز نے رات کی تاریکی میں من پسند ٹھیکیداروں کو پچھلی تاریخوں میں اربوں کی ایڈوانس مبینہ بوگس ادائیگیاں کرنے کے انکشافات ہوے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے آخری ایام میں فی اراکین قومی اسمبلی کو تقریبا 3 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کی گرانٹ محکمہ PAK.PWD کو منتقل کی جو تقریبا 100ارب سے بھی زیادہ بنتے ہیں ،ذرائع نے بتایا کہ سینٹرل چیف انجینئر لاہور آفس کے عملہ نے ایگزیکٹو انجینئر لاہور سرکل ون خورشیداحمد مرزا ،جاوید اختر سیالکوٹ ،نوید عباس گوجرانوالہ،محمد عدنان، فیصل آباد،راشد حسین سرگودھا وغیرہ تمام سے مبینہ ملی بھگت کے ساتھ لگنے والے ٹینڈرز کے ورک آرڈر پچھلی تاریخوں میں لاہور سے جاری کرنے شروع کر دیئے۔

ذرائع محکمہ PAK PWD اورٹھیکیداروں کے مطابق اربوں روپے کے ٹینڈرز کی18 فی صدپول حاصل کر کے الاٹمنٹ کی،بعدازاں جب اس حوالے سے ایگزیکٹو انجینئرز صاحبان سے موقف لینے کے لئے بین الاقوامی خبرساں ادارے کے نمائندے نے رابطوں کا سلسلہ بڑھایا تو انہوں نے ان انکشافات کا مبینہ طور الزام موجودہ چیف انجینئر آفس پر ڈال دیا اور ان پرمبینہ کمیشن کا الزام لگایاجبکہ باقی الزامات کی تردید کی، ہمارے ذرائع نے مزید بتایا کے گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے سیکرٹری ہاؤسنگ نے 21ایگزیکٹو انجینئرز اور9ایس ایاور 2 چیف انجینئرصاحبان کے تبادلے کردیئے ذرائع کےمطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ترقیاتی منصوبوں پر کام بھی روکنے کے احکامات جاری کئے،ذرائع کے مطابق مذکورہ چیف انجینئر کی مبینہ ملی بھگت سے ایگزیکٹو انجینئرز نے مبینہ طور پر من پسند ٹھیکیداروں کو پچھلی تاریخوں میں اربوں روپے کی ایڈوانس بوگس ادائیگیاں کردیں ہیں۔

اور مذکورہ افسران الیکشن کمیشن کے احکامات کو ردی کی ٹوکری کی زینت کر کے مبینہ طورپر اربوں کی بے ضابطگیاں کرنے میں پیش پیش ہیں،یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ قبل سیالکوٹ ایگریگیٹو انجینئر جاوید اختر کاتبادلہ لاہور سرکل ون کیاگیا تھا مگر مذکورہ آفیسر نے طمع نفسانی کی خاطر مبینہ قومی خزانہ کی لوٹی ہوئی رقوم کا استعمال کرکے اپنے آرڈر کینسل کروا لئے بعدازاں ذرائع کے مطابق اب الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل کرتے ہوے محکمہ میں تمام ایگزیکٹو انجینئر کے تبادلے کردیئے گئے تو مذکورہ آفیسر نے مبینہ طور پر طمع نفسانی کی خاطر ایگزیکٹو انجینئر جاوید اقبال کو اپنے قریب لاہورCCD1لاہور ہی تعینات کروالیا۔جب اس بابت موقف دریافت کرنے کے لئے چیف انجینئر رشید چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں ما تحت عملہ کا دفاع کرتے ہوے موقف دینے سے انکار کر دیا۔جبکہ ایگزیکٹو انجینئر جاوید اختر نے سارا ملبہ چیف انجینئر پر ڈال دیا۔

