
لاہور (جمیل فاضل سٹاف رپورٹر)
سیکرٹری محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کیپٹن اسد اعلی احکام کے ہاتھوں بے بس، ایگزیکٹیو انجنیئر ہائی وےسیالکوٹ دلشاد احمد قومی خزانہ کے کروڑوں روپے فنڈز طمع نفسانی کی خاطر بے دریغ سے استعمال کرنے لگا ابھی سیالکوٹ میں تعینات ہوے 2 ماہ بھی نہیں ہوے ۔
تو حکومت پنجاب کی طرف سے دیئے گئے ترقیاتی فنڈز کی ٹھیکداروں اور ما تحت عملہ کی مبینہ ملی بھگت سے آپس میں کروڑوں روپے کی بندر بانٹ کر لی ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فنڈز کو 28 مئی 2021 تک ٹر قیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے بعد بچنے والے فنڈز فنانس ڈیپارٹمنٹ کو واپس ہو جاتے ہیں ۔
جس پر مذکورہ ایگزیکٹیو انجنیئر نے ان فنڈز کو غیر قانونی طور پر اختیارات کا ناجائز جائز استعمال کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے منصوبے شروع کرنے سے پہلے ہی انڈاواس ادائیگیاں کر کے قومی خزانہ کےکروڑوں روپے خورد برد کر لئے ہیں ذرائع کے مطابق ایگزیکٹیو انجنیئر سیالکوٹ دلشاد احمد کا کہنا ہے ۔
کہ اس کے پیچھے ایوان وزیر اعلی کی ایک اہم شخصیت کے چھوٹے بھائی کا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے سیکرٹری کیپٹن اسد تو دور کی بات ہے چیف سیکرٹری پنجاب بھی اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں مذکورہ آفیسر عرصہ 3 سال میں 6 جگہوں ڈیرہ غازی خاں، فیصل آباد،ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ میں اپنی من پسند کی پوسٹنگ کروا کر قومی خزانہ کے اربوں روپے لوٹ کر مبینہ طور پر اپنی بیویوں اور طوائفوں کی زینت کرچکا ہے
ذرائع کے مطابق مذکورہ آفیسر کا دعوی ہے ایوان وزیر اعلی کی اہم شخصیت کے چھوٹے بھائی کی فرمائشیں پوری کرنے کی وجہ سے اس کو کسی بھی تحقیقاتی ادارے کا خطرہ نہیں ہے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے تحقیقاتی اداروں اینٹی کرپشن، وزیر اعلی انسپیکشن ٹیم، ایف بی آر،صوبائی محتسب اعلی اور آئی بی کی پر اسرار خاموشی پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
تاہم دلشاد احمد ایگزیکٹیو انجنیئر اس حوالے سے موقف دینے سے صاف انکاری ہے اور کہتا کہ میرے ہاتھ پور تک ہیں ایسی خبریں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ جبکہ چیف انجینئر نارتھ وسیم طارق نے سارا معاملہ سیکرٹری پر ڈال دیا۔
