اہم خبریںجرم وسزا

لاہور ہائیکورٹ :چار سال سے لاپتہ لڑکی کیس کا معاملہ،پولیس کی مغوی کے قتل کی رپورٹ پیش کرنے پرچیف جسٹس نے آئی جی سے تمام لاپتہ زیرالتوا کیسز کی تفصیلات مانگ لی

لاہور(ٹی این آئی)چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے چار سال سے لاپتہ لڑکی کے قتل ہونے کے متعلق آئی جی پنجاب کی رپورٹ اور پولیس کی انویسٹیگیشن پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سے صوبہ بھر کی تمام لاپتہ لڑکیوں اور خواتین کے مقدمات ، زیر التوا کیسز کی تفصیلات طلب کرلیں ،عدالت نے منتظقی انجام تک نہ پہنچنے والے مقدمات او ان کے تمام تفتیشی افسران اور ان کے سابقہ ریکارڈ کی تفصیلات بھی طلب کر لیں .چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کی کی، جنہوں نے 2022 میں اپنی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔سماعت کے دوران آئی جی عبدالکریم سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے آئی جی کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مغوی لڑکی کو قتل کیا جاچکا ہے.

آئی جی نے عدالت کو بتایا کہابتدائی تفتیشی افسران نے ملزم کو بے گناہ قرار دے کر مقدمے سے خارج کروا دیا تھا۔ جب پولیس نے کیس کی دوبارہ تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ لڑکی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ جس گھر میں بچی ملازم تھی، اس گھر کے مالک کے داماد کو حراست میں لے کر ریمانڈ حاصل کیا گیا، تو ملزم نے قتل کا اعتراف بھی کیا۔،

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ مغویہ کی تلاش میں چار سال کیوں لگے، جس پر آئی جی نے تسلیم کیا کہ اس میں چار سال کا عرصہ لگا۔ ار سال سے لاپتہ لڑکی کے قتل کرتے ہوئے کہا کہ “آپ اپنے انویسٹیگیشن سسٹم کی حالت دیکھیں”۔مقتولہ کی لاش اب تک کیوں برآمد نہیں ہوئی۔

آئی جی نے جواب دیا کہ پولیس کوشش کر رہی ہے، جس پر عدالت نے ہدایت دی کہ روہی نالے کے قریب تھانوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کہیں لاش کو امانتاً دفن تو نہیں کیا گیا۔ چار سال بعد مغوی کے قتل کا انکشاف کیا گیا ، چار سال تک تاخیر کے زمہ داروں کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ؟ آئی جی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ سابقہ ذمہ دار تفتیشی افسران کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔

 

عدالت نے آئی جی کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر صوبہ بھر میں لاپتہ لڑکیوں اور خواتین کے مقدمات، زیر التوا کیسز، اور وہ مقدمات جو منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے، ان کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔ عدالت نےتمام تفتیشی افسران کے ریکارڈ اور تفتیش مکمل کرنے کے دورانیے کی تفصیلات بھی طلب کر لی چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ جن تفتیشی افسران کی کارکردگی ناقص ہو، انہیں آئندہ اہم مقدمات کی تفتیش سونپنے سے گریز کیا جائے۔سماعت کے دوران درخواست گزار بزرگ خاتون نے چیف جسٹس کی تعریف بھی کی اور انصاف کی فراہمی پر امید کا اظہار کیا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 اپریل تک ملتوی کر دی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button