
ایرانی عہدیدار کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچائی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایران نے اپنا مؤقف بھی پاکستان کے ذریعے ہی امریکا تک پہنچا دیا۔ایران نے واضح کیا ہے کہ ان تجاویز میں بنیادی تقاضوں کی کمی ہے اور موجودہ صورتحال میں باضابطہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریم ورک موجود نہی
حکام کے مطابق اس مرحلے پر براہ راست بات چیت کا کوئی عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتکاری کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے تو تنازع کے حل کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک امریکا اور ایران کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران اب واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
