
لاہور (ٹی این آئی) سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے انسداد سموگ اجلاس میں کہا ہے کہ پنجاب میں اسموگ کنٹرول اور ماحولیاتی بہتری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں جاری مؤثر اور ہمہ جہت اقدامات کے نتیجے میں لاہور کی فضائی کوالٹی میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 91 تک بہتر ہو چکا ہے جبکہ عالمی درجہ بندی میں شہر 9ویں نمبر پر آ گیا ہے،
جو حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے تحت اسموگ کے خاتمے کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گرین اسکول سرٹیفکیشن پروگرام کے تحت صوبہ بھر کے 26 ہزار 330 اسکولز کو شامل کیا گیا ہے، جس میں 76 لاکھ سے زائد طلبہ اور اساتذہ ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسکولوں میں روزانہ AQI ڈسپلے، پانی کے بچاؤ، توانائی کی بچت اور شجرکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بھی انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی “ٹو اور تھری ویلرز ریپلیسمنٹ پالیسی” کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو مرحلہ وار الیکٹرک وہیکلز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں سرکاری موٹر سائیکلوں کی منتقلی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ٹرانسپورٹ کو بھی ای وی سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔زرعی شعبے میں فصلوں کی باقیات جلانے کے تدارک کے لیے کسانوں کو 20 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ اینٹی اسٹبل برننگ اسکواڈز فیلڈ میں متحرک ہیں اور خلاف ورزی پر سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت فضائی آلودگی کے حوالے سے باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں اسموگ کنٹرول اقدامات کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں ٹیکنالوجی، ملٹی سیکٹورل انفورسمنٹ، مؤثر پالیسی سازی اور “پنجاب کلائمیٹ واچ” جیسے جدید نظام کے ذریعے ماحولیاتی بہتری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ
ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے، ری سائیکلنگ اور کمپوسٹنگ کے اقدامات تیزی سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ 50 ہزار اینٹی سنگل یوز پلاسٹک بیگز کے عہد مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ لاہور کے ہزاروں دکاندار اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں۔ اچھرہ بازار کے 3700 دکانداروں نے پلاسٹک بیگز کے خاتمے کا عہد کیا ہے۔ 10 اضلاع میں مہم کامیاب قرار دی گئی ہے جہاں 34 زونز اور 2904 دکانیں پلاسٹک سے پاک قرار دی جا چکی ہیں۔
ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس کے انفورسمنٹ اسکواڈز فیلڈ میں متحرک ہیں جبکہ 67 کوئیک ریسپانس یونٹس فوری کارروائی کے لیے سرگرم ہیں۔ آلودگی کے ہاٹ اسپاٹس کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور پنجاب کلائمیٹ واچ کا الرٹ سسٹم فعال ہے، جس کے ذریعے افسران کو فوری ہدایات واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے جاری کی جاتی ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ
اہم شاہراہوں پر فوگ کیننز کے ذریعے گردوغبار اور آلودگی میں کمی لائی جا رہی ہے جبکہ زیر تعمیر سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صنعتی علاقوں کے گرد گرین بفر زونز کا قیام یقینی بنایا جا رہا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔مزید برآں، باربی کیو پوائنٹس پر سکشن ڈکٹس کی تنصیب کے لیے 30 مئی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے جبکہ موٹرویز، مالز اور بازاروں میں “پلاسٹک فری زونز” کے قیام کا عمل تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی پی اے کی ہیلپ لائن 1373 کے ذریعے شہریوں کو رہنمائی اور الرٹس فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ اے کیو آئی میں اضافے کی صورت میں کرائسز مینجمنٹ پلان فوری طور پر نافذ کر دیا جاتا ہے جس میں واضح ذمہ داریاں اور ٹائم لائنز مقرر ہیں۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول کے قیام کے لیے عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں اور حکومت ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی
