
اسلام آباد(ٹی این آئی) عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک لین دین سے متعلق شکایتی رپورٹس میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے اور قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اصل مالکان کی معلومات کے تبادلے کو یقینی بنائے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم شرح کے مسئلے کو حل کرے، ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پائے اور قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے بینیفیشل اونر یعنی اصل مالکان کی معلومات کے تبادلے کو یقینی بنائے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے پیر کے روز ’’دی نیوز‘‘ کو اس بات کی تصدیق کی کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے ’’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی‘‘ کے تحت پاکستان کے لئے لیے 1.1 ارب ڈالر کی چوتھی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ نامزد غیر مالیاتی کاروباری اداروں اور پیشوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی تعداد انتہائی کم ہے، جبکہ یہ تاثر عام ہے کہ ملک میں ٹیکس چوری کا پیسہ اور غیر قانونی دولت ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کھپائی جا رہی ہے۔ ایف بی آر نے حال ہی میں فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات پر ریئل اسٹیٹ کی دو بڑی سوسائٹیوں پر چھاپے مارے ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کرنے اور بینکوں کے طریقہ کار کی طرز پر مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس تیار کرنے کیلئے ʼنامزدغیر مالیاتی کاروباری اداروں اور پیشوں (ڈی این ایف بی پیز) کو مقرر کیا تھا، جنہیں فنانشل مانیٹرنگ یونٹس ( ایف ایم یو )کو ارسال کیا جانا تھا۔ تاہم آئی ایم ایف نے یہ مشاہدہ کیا کہ ان اداروں کیلئے بنائے گئے اس ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے تیار کی جانے والی مشکوک رپورٹس کی تعداد کافی کم رہی ہے۔
پاکستانی وفد نے نیشنل رسک اسیسمنٹ سے متعلق تازہ ترین معلومات اور نیشنل اے ایم ایل/سی ایف ٹی اتھارٹی کے ساتھ اپنے تعاون کی تفصیلات شیئر کیں۔ حکومت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام کو مزید موثر بنانے اور نامزد غیر مالیاتی کاروباری اداروں اور پیشوں کے حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ مزید برآں قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے، خاص طور پر ایس ای سی پی کے مرکزی رجسٹر میں بینیفیشل اونر شپ یعنی اصل مالکان کی معلومات کی درستگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
ڈی این ایف بی پیز سیکٹر کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ ایجنٹس، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈی این ایف بی پیز، ایف بی آر اور ایف ایم یو مل کر مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (ایس ٹی آرز) کی کم شرح کے مسئلے کو حل کریں گے۔ اس مقصد کے لیے جاری اصلاحات، رپورٹنگ کے نئے ڈھانچے اور متعلقہ اداروں کو سسٹم کے ساتھ رجسٹر کرنے کی شرط کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کے ساتھ ہونے والے حالیہ تیسرے جائزے اور مذاکرات کے دوران ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ یعنی تجارت کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مسئلے کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگست 2025 میں ایک جامع فریم ورک جاری کیا تھا تاکہ مجاز ڈیلرز کو اپنے صارفین، لین دین اور خدمات میں ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے خطرات کا جائزہ لینے اور انکی نگرانی کرنے میں مدد مل سکے۔
فنانشل مانیٹرنگ یونٹ متعلقہ اداروں کے ساتھ مالیاتی معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے، جس میں خاص طور پر کسٹمز کی جانب سے فعال رسائی اور اشتراک سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مستقبل میں فاریکس رپورٹنگ، درآمدی ادائیگیوں اور کسٹمز ڈیٹا کے حوالے سے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو مزید بڑھایا جائیگا تاکہ ہر سطح پر ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔

