
اسلام آباد(ٹی این آئی)آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے تیسرے مرحلے سے ایک روز قبل صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھا دیئے۔ الیکشن کمیشن اور مسلم لیگ (ن) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پہلے دن سے مرحلہ وار انتخابات کی مخالفت کی تھی ۔ الیکشن کمیشن نے اس کے باجود اپنی مرضی اور مخصوص مقاصد کے تحت انتخابات کروائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری یاسین کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کو بھی جان بوجھ کر مخصوص مقاصد کے لیے آزاد کشمیر بلایا گیا ۔ جبکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا کردار مکمل طور پر جانبدارانہ اور قابل اعتراض رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں 2016 کے انتخابات کی یاد تازہ کر دی گئی ہے ۔ مختلف حلقوں میں منظم انداز میں دھاندلی کی گئی۔
پیپلز پارٹی رہنما نے الزام عائد کیا کہ ایل اے 9 سمیت متعدد حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کو زبردستی کامیاب کروایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا امیدوار جتوایا گیا جوبرطانیہ میں ملزم تھا۔ رانا ثناء اللہ کئی ماہ قبل ہی مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کا اعلان کر چکے تھے، جس سے انتخابی عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ حلقوں میں شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ پیپلز پارٹی انتخابی دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے مبینہ جانبدارانہ کردار کے خلاف ہر آئینی اور قانونی فورم سے رجوع کرے گی۔ پارٹی اعلیٰ عدالتوں میں جا رہی ہے، امید ہے انصاف ملے گا۔
سابق امیدوار محمد صہیب نے کہا کہ حلقہ ایل اے چار کھڑی شریف میں بھی دھاندلی کی نئی مثالیں قائم کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولنگ کے روز ٹرن آؤٹ انتہائی کم تھا لیکن سرکاری نتائج میں ووٹنگ کی شرح اسی فیصد سے زائد ظاہر کی گئی۔ محمد صہیب نے کہا کہ انہوں نے خود انتخابی عملے کو مسلم لیگ (ن) کے حق میں مہریں لگاتے دیکھا۔
