اہم خبریںپاکستان

پمز سانحہ، وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 عہدیداران کو فوری معطل کرنے اور فوجداری کارروائی کی منظوری دیدی

وزیر اعظم نے اپنی جان کی پراہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کو ستارہ خدمت دینے کی منظوری دیدی

اسلام آباد(ٹی این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطح اجلاس کے دوران تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کر دی گئی ہے جس دوران وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 لوگوں کو فوری طور پر معطل  کرنے کی منظوری دیدی  جبکہ ذمہ داران کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی بھی ہدایت کر دی  اور اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کو ستارہ خدمت دینے کی منظوری بھی دی ۔

تفصیلات کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد معطل کیئے جانے والے 8 لوگوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض ، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان ، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن  شامل ہیں ۔

وزیراعظم شہبازشریف نے بلا امتیاز فوجداری کارروائی کرنے کی ہدایت کردی ہے  جبکہ سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اس کے عہدیداران کے خلاف کارروائی کی منظوری دیدی گئی  جبکہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کر دی گئی ۔ وزیر اعظم نے اپنی جان کی پراہ کئے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کو ستارہ خدمت دینے کی منظوری  بھی دی ۔

 

وزیر اعظم  شہبازشریف نے ڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او این آئی ایچ کو پمز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ معطل افسران کی جگہ فوری نئے افراد تعینات کرنے  اور تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔  رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویب سائیٹ پر آویزاں کر دی جائے گی۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، معصوم بچوں کی موت ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے،  بچوں کے والدین کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں،  واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائیگی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ عفلت سے کسی ماں سے اس  کا لخت جگر جدا نہ ہوا۔

اجلاس کے دوران تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی چلائی گئی ، بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں  تھی،پمز کے 13 ایس اوپیز میں صرف دو ذیلی سیکشنز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا تذکرہ پایا گیا، واقعے کے وقت سپر وائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، واقعے کے وقت دو نرسیں، ایک خاتون گارڈ اور ہاؤس آفیسر وارڈ میں موجود تھے، آگ لگنے اور پورا وارڈ جلنے میں صرف دو منٹ کا مختصر وقت لگا۔

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک نرس نے وارڈ میں آگ پھیلنے سے پہلے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر ایک بچے کی جان بچائی،  آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال گئی، پہلا ایمرجنسی رسپانس اس کے 15 منٹ بعد پہنچا،  صرف ایک ماہ پہلے جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ ہوا، جس کے بعد بھی ہسپتال میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ اقدامات نہیں لئے گئے،  وارڈ میں کوئی فائر الارم، سپرنکلر سسٹم موجود نہ تھا،  نیو نیٹل وارڈ میں ڈبلیو ایچ او کے اس حوالے سے تمام تر قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی، ہسپتال میں آگ جیسی ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی افسر موجود نہیں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

اجلاس کو ہسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی،  وزیر اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا ۔  وزیر اعظم نے تحقیقات کو مکمل کرکے مزید تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button