اہم خبریںجرم وسزا

ڈائریکٹر بورڈ آف ریونیو اور بلڈنگ سیکنڈ ڈویژن لاہور کے سب انجینئر کی مبینہ ملی بھگت سے مینٹیننس کی مد میں 3 کروڑ 86 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

By editor Arshad mahmood Ghumman

لاہور(ارشدمحمود گھمن )ڈائریکٹر بورڈ آف ریونیو اور بلڈنگ سیکنڈ ڈویژن لاہور کے سب انجینئر کی مبینہ ملی بھگت سے مینٹیننس کی مد میں 3 کروڑ 86 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں پراینٹی کرپشن نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر بورڈ آف ریونیو پنجاب رانا شیراز نے فرید کورٹ ہاوس کی بلڈنگ کی ایمر جنسی مینٹیننس اور بورڈ آف ریونیو پنجاب پرانی انار کلی کی بلڈنگ کی منٹینس کے لئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو بلڈنگ سیکنڈ ڈویڑن کے ایس ڈی او اورسب انجینئر زاہد حنیف کی مبینہ ملی بھگت سے کمروں کی سیلنگ ، ٹائل ،دروازے اور دیگر مرمت کے لئے بوگس اسسمنٹ 3 کروڑ 86 لاکھ روپے کا بنوا کر بلڈنگ کو ناکارہ ظاہر کر کے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے منظوری حاصل کر کے ایمرجنسی ٹینڈر لگوا کر اپنے من پسند ٹھیکیدارکو ٹینڈر آلاٹ کروا کرقومی خزانہ سے تمام رقوم نکال کر آپس میں مبینہ طور پر بندر بانٹ کر لی ، حالانکہ ایمرجنسی بلڈنگ کی مینٹیننس کے لئے فنڈز صرف اور صرف وزیر اعلیٰ پنجاب یا گورنر پنجاب کی آمد کے سلسلہ میں لگائے جاتے ہیں مگر مذکورہ افسران نے مبینہ طورپر طمع نفسانی کی خاطر ان فنڈز کو اختیارات سے تجاوز کرتے ہوے جاری کروائے اور چند افسران کی فرمائش پر ان کے دفاترکی دوبارہ توڑ پھوڑ کر کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے صرف 50 لاکھ روپے خرچ کر دیئے ،اب یہ ہی افسرمزید بلڈنگ کی تعمیر کے لئے 3کروڑ روپے ریوائز کروانے لئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے منظوری حاصل کرنے کے درپے ہیں ،یادرہے کہ 2010ءمیں بورڈ آف ریونیو کی بلڈنگ کی کروڑوں روپے کی لاگت سے نئی تعمیر کی گئی تھی ،اس حوالے سے ڈائریکٹر بورڈ آف ریونیو رانا شیراذ کا کہناہے کہ بورڈ آف ریونیو کی بلڈنگزکی خستہ حالت ہونے کی وجہ سے کمیٹی نے مینٹیننس کی منظوری دی تھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button