اہم خبریں

صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر سے حکومت پنجاب کو سالانہ  30 ارب روپے ریونیو دینے والا ادارہ لوڈشیڈنگ بحران کا شکار

Editor Arshad mahmood Ghumman

لاہور(ارشدمحمود گھمن)صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر سے حکومت پنجاب کو سالانہ  30 ارب روپے ریونیو دینے والا ادارہ محکمہ ایکسائیز اینڈ موٹر رجسٹریشن لوڈشیڈنگ بحران کا شکار، جنریٹرز کی سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے  روزانہ 5 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہزاروں آنے والےسائلین  پراپرٹی ٹیکس اور گاڑی مالکان سمیت سٹاف بھی شدید گرمی کی شدت سے نڈھال، اعلی افسران کی پر اسرار خاموشی پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے، تفصیلات کے مطابق ایکسائیز اینڈ ٹیکسییشن موٹر رجسٹریشن لاہور سمیت پنجاب کے 9 ریجن میں حالیہ ہونے والی3 سے 4 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے کمپیوٹر سسٹم کے بند ہونے سے متعلقہ سٹاف   کو آنے والےہزاروں سائلین موٹر گاڑیوں کی نیو رجسٹریشن ،اور ٹرانسفر اور پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے صبح 9 بجے سے لیکر 4 بجے تک 3 سے 4 گھنٹےکی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے مگر اعلی افسران نے جنریٹر بھی کیئی دفاتر کو فراہم کر رکھے ہیں مگر تیل نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے خراب ہوگئے ہیں ذرائع کے مطابق ریجن سی  لاہور میں علی کمپلیکس، فرید کورٹ ہاوس، شاہدرہ، فیصل ٹاؤن، ڈی ایچ اے وغیرہ میں بقاعدہ طور پر جنریٹر تو موجود ہیں مگر متعلقہ انچارج ندیم بٹ کلرک مبینہ طور پر ان کو تیل فراہم نہیں کرتا اور لاک بک میں لاکھوں روپے پٹرول اور ڈیزل کی مد میں ڈال دیئے جاتے ہیں،یاد رہے کہ کئی بار محکمہ کے سٹاف بھی متعلقہ افسران سے اس بابت رجوع کر چکے ہیں مگر محکمہ کے اعلی افسران ذمہ دار انچارج ندیم کلرک کے خلاف کارروائی نہ کر سکا ۔ذرائع کے مطابق مذکورہ کلرک کو ایک اہم آفیسر کی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بطور کانسٹیبل بھی یہ ہی امور دیتا تھا ذرائع کے مطابق مذکورہ کلرک کے آفس ورک کے لئے استعمال ہونے والی گاڑی نمبریLEG.777 بھی اپنے استعمال میں کر رکھی ہے اور آفس ورک کے لئے مذکورہ سٹاف کو اپنی گاڑی کا استعمال کر نا پڑتا ہے ۔تاہم اس حوالے سے سیکرٹری ایکسائیز کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے بجٹ مل چکا ہے بہت جلد ایسے مسائل کا حل ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button