
نائب وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم تلے جہاز گزرنے کی اجازت کے نتیجے میں ‘روزانہ دو جہاز آبنائے سے گزریں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایران کی طرف سے یہ ایک خوش آئند اور تعمیری اقدام ہے اور لائق تحسین ہے، یہ امن کا ضامن ہے اور اس سے خطے میں استحکام لانے میں مدد ملے گی’۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ‘یہ مثبت اعلان امن کی طرف ایک بامعنی قدم کی نشان دہی کرتا ہے اور اس سمت میں ہماری اجتماعی کوششوں کو تقویت دے گا’۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ‘بات چیت، سفارت کاری اور اعتماد سازی کے ایسے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں’۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستانی بحری جہاز ایم ٹی کراچی ایرانی سمندر حدود سے گزر کر 18 مارچ کو کراچی کی بندرگاہ پر لنگرانداز کیا، مذکورہ جہاز میں 8 کروڑ لیٹر خام تیل کی موجودگی کی اطلاع تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایم ٹی کراچی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے خصوصی اجازت دے دی گئی تھی۔
