
اسلام آباد(ٹی این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین مصطفیٰ محمود کی زیرصدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سمیت وزارت پیٹرولیم کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ارکان کمیٹی نے پیٹرولیم لیوی میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیوی بڑھا کر 118 روپے تک پہنچا دی گئی ہے۔اس موقع پر چیئرمین کمیٹی مصطفیٰ محمود نے کہا کہ پہلے دیگر ایجنڈا آئٹمز پر بات کر لیتے ہیں، پھر پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔
کمیٹی نے سندھ میں سی ایس آر فنڈز خرچ نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔صوبائی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی ایس آر فنڈز کے تحت مالی سال 2020-21 سے رقوم ملنا شروع ہوئیں، تاہم واضح گائیڈ لائنز نہ ہونے کے باعث یہ فنڈز خرچ نہیں کیے جا سکے۔حکام کے مطابق بلوچستان میں سی ایس آر کے تحت تین ارب روپے تاحال رکے ہوئے ہیں۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی طلال بدر نے کہا کہ کے پی حکومت سی ایس آر سے کنسلٹنٹس کو پیسے دے رہی ہے، سی ایس آر سے کنسلٹنٹس کو کیسے رقم مل رہی اور کس لئے؟
