
لاہور:میو اسپتال میں ینگ ڈاکٹرز کے عہدیداروں پر کروڑوں روپے مالیت کے کارڈیک اسٹنٹس اور بیلونز چوری کرنے کا الزام غلط ثابت ہوگیا، معاملے کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی۔انکوائری رپورٹ کےمطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ینگ ڈاکٹرز کے عہدیداروں کی گاڑیوں میں کوئی کارٹن رکھتے ہوئےنظر نہیں آیا،ایک سفید گاڑی کی ڈگی کھولتے ہوئے شخص دکھائی دیا، تاہم گاڑی میں کوئی سامان رکھنے یا نکالنے کا ثبوت نہیں ملا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے کارڈیک اسٹنٹس، کارڈیک بیلونز یا کسی اور سامان کی منتقلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا،ینگ ڈاکٹرز نےانکوائری کمیٹی کو بتایاکہ ان پرجھوٹا الزام عائد کرنے کے لیے ان کی ذاتی گاڑیوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایم ایس آفس سےخط موصول ہونے پرینگ ڈاکٹرز کےخلاف الزامات عائد کیے گئے اور انکوائری شروع کردی گئی۔ اے ایم ایس سیکیورٹی نے بیان دیا کہ انہیں کارڈیک اسٹنٹس اور بیلونز کی چوری سے متعلق علم نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے ذاتی طور پر انکوائری شروع کی،سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھے بغیر ہی انکوائری شروع کردی گئی تھی۔
کمیٹی نے مزید تحقیقات کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوانے کی سفارش کردی ہے۔
