
حقیقت/تحریر:ارشدمحمود گھمن
پاکستان میں سیاسی عدم استحکام نے ملکی ڈھانچہ ہلا ڈالاہے،بے یقینی اور لاعلمی کی فضا سے ہزار وسوسے پید اہوتے ہیں اور ڈھیلی ڈھالی کیفیت میں کہیں قرار نہیں ہوتا۔پنجاب کی صورتحال دیکھ کر تو مینارہ بابل کی یاد آتی ہے۔بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں اور دور دور کی ایسی کوڑیاں لائی جاتی ہیں کہ سننے والا ہکا بکا اور دیکھنے والا حیرت و ہراساں ہو جاتا ہے۔کوئی ترقیاتی منصوبہ،کوئی سیاسی لائحہ عمل یا عوامی فلاح و بہبود کا کوئی پروجیکٹ ایسے منظر میں ثمر بار ہو نہیں سکتا۔اس میں تو خیر کوئی مبالغہ نہیں کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن یہ سیاسی صورتحال کیا امن کی نوید دے سکتی ہے ؟کیا پاکستان میں آئے رو ز اسی طرح کھیل تماشا چلتا رہے گا ؟ کیا امن و قرار اور سیاسی استحکام پاکستا ن کا مقدر نہیں بن سکتا؟
پنجاب میں پرویز الٰہی کا اعتماد کا ووٹ لینا اور وزیر اعلیٰ کے منصب پر برقرار رہنا یقیناً وفاقی حکومت کے لئے ایک دھچکہ ہے لیکن آگے چل کر کیا پرویز الہی اسی تنی ہوئی رسی پر بیٹھے رہیں گے ؟آگے کا منظر کیا رواں دواں رہے گا یا سیاسی سمندر میں جوار بھاٹا اٹھے گا اور اس مدو جزر میںکوئی طوفان آ جائے گا ؟اس جیسے بے شمار سوالات ہیں جو پاکستان کے سیاسی استحکام پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔جب تک اقوام و ممالک کے استحکام پر سوالیہ نشان لگے رہیں گے ہماری ترقی اور عوامی خوشحالی ایک خواب رہے گی۔اصل میں ہماری ضرورت یہ ہے کہ ہمارے حکومتی معاملات اور پارلیمانی حالات لگے بندھے راستے پر ہموار طریقے سے چلتے رہیں۔مسلم لیگ ن نے پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں،اعتماد کے ووٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔عددی نمبروں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔اب مسلم لیگ ،وفاقی حکومت اور پی ڈی ایم جو چاہے کہتی رہی لکین ایک بار پر ویز الہی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو پانے کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ نے اس کاروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ،پنجاب اسمبلی کے ایوان کی رائے کو مسترد کر دیا۔انہوں نے کھل کر کہا کہ پنجاب حکومت نے دھاندلی کی ہے لہذا ہم نتائج کو نہیں مانتے۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی پرویز الہی کے خوب لتے لیے ،انہیں برا بھلا کہا اور کہا کہ گجرات سے بدمعاش لا کر پنجاب اسمبلی میں بٹھائے گئے اور ہمارے ایم پی ایز کو داؒخل نہیں ہونے دیا گیا۔ہمارے آدمیوں کو اکھٹا ہونے کا موقع نہیں دیا گیا،جان بوجھ کر عجلت میں اعتماد کا ووٹ لے لیا گیا اور گنتی میں بھی گڑ بڑھ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم لاہور ہائیکورٹ میں جائیں گے اور وہاں سے ہی فیصلہ ہو گا کہ اب کیا کرنا ہے،پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق نے ہیرا پھیری کی اور اعتماد کی کارروائی کو منہدم کیا۔
ہوا یوں کہ پرویز الٰہی پر اعتماد کے ووٹ کیلئے قرارداد راجہ بشارت اور میاں اسلم اقبال نے پیش کی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اراکین کی جانب سے قرارداد پیش کرنے کے دوران شدید ہنگامہ آرائی کی گئی اور سپیکر ڈائس کا گھیراو¿ کر کے خوب نعرے بازی کی گئی۔ ووٹنگ کا عمل شروع ہوتے ہی اپوزیشن کے لوگ نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے اور اسمبلی کی عمارت کے باہر احتجاج کیا۔تب حکومت کی مرضی تھی کہ پھر وہ جو چاہے کرے،انہوں نے اپنی من مانی سے گنتی کی اور سپیکر نے جیت کا اعلان کر دیا ۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری ، اسد عمر سمیت دیگر بھی اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمان گیلری میں موجود تھے ،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت منصوبہ بنا چکی تھی کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔
بعد ازاں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےرانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کا عدالت میں موقف اور ہے اور یہاں اور ہے، رائے شماری پر دو ارکان کو نگران مقرر کرنا چاہیے تھا، یہ اعتماد کے ووٹ کا جو نمبر شو کرتے ہیں وہ جعلی ہے، پنجاب اسمبلی میں اس وقت تمام کارروائی غیر قانونی ہے، رات 12 بجے کے بعد دوسرا ایجنڈا جاری کیا گیا اس لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہی غیر آئینی ہے، ہم تسلیم نہیں کرتے، گورنر کا حکم معطل ہے تو پھر دھوکہ دہی کی گئی ہے، حکومت کے پاس صرف 80 سے 81 افراد ہیں، انہوں نے الیکشن کے تقاضے پورے نہیں کیے۔رات گئے تک مختلف اور متضاد اطلاعات تھیں کہ پرویز الہی کی جیت کیسے ہوئی۔حامی حق میں اور مخالف مخالفت میں دلائل دے رہے تھے۔اب معاملہ پھر عدالت کے پاس جائے گا اور وہاں قانونی اور فنی موشگافیوں کے جوہر دکھائے جائیں گے۔ ججز فریقین کے دلائل سنیں گے ا ور شواہد دیکھیں گے ،پھر نتائج تک پہنچیں گے۔اس سارے منظر نامے میں ایک بات طے ہے کہ سیاسی عدم استحکام پاکستان کو نچوڑ رہا ہے،پارلیمانی لڑائیاں عدالت میں لڑی جا رہی ہیں۔اب عدالت عالیہ ہی پنجاب کی پگ کا فیصلہ کرے گی کہ یہ پرویز الہی کو پہنائی جائے یا نہیں۔
